مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

صوبائی وزیر فضل شکور کا پشاور کے قریب مبینہ اغوا، مقدمہ درج

خیبر پختونخوا حکومت کا دعویٰ ہے کہ نامعلوم افراد نے ایم ون موٹروے ٹول پلازہ کے نزدیک گاڑی پر فائرنگ کر کے وزیر کو اغوا کیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک3 منٹ کا مطالعہ
صوبائی وزیر فضل شکور کا پشاور کے قریب مبینہ اغوا، مقدمہ درج

خیبر پختونخوا حکومت نے پیر کو دعویٰ کیا کہ صوبائی وزیر فضل شکور خان کو پشاور کے قریب ایم ون موٹروے ٹول پلازہ کے نزدیک نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا اور ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ پیر کی رات تک وزیر کا کوئی سراغ نہیں ملا اور کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ صوبائی وزیر کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے اغوا کیا اور گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں لگتا ہے کہ اس سے تحریک ناکام ہو جائے گی تو ایسا نہیں ہوگا۔

بی بی سی اردو کے مطابق تحریک انصاف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اتوار کو دوسرے صوبائی وزیر شکیل احمد کو اسی انداز میں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی اور فائرنگ کے بعد وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

فضل شکور خان کے سیکریٹری محمد عالم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تھانہ چمکنی میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی تھی۔ آج نیوز نے رپورٹ کیا کہ بعد ازاں وزیر کے بھائی ریٹائرڈ میجر انور عزیز کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق فضل شکور خان میرہ پڑانگ چارسدہ سے خیبر پختونخوا اسمبلی آ رہے تھے کہ ایم ون ٹول پلازہ کے قریب باوردی اور سادہ لباس افراد نے گاڑی پر حملہ کیا۔

وزیر کے بھائی فضل محمود نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فضل شکور خان ایک ڈرائیور اور گن مین کے ساتھ پارلیمانی کمیٹی اور اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ جب وہ موٹروے ٹول پلازہ پہنچے تو روکنے کی کوشش کی گئی اور ٹائروں پر فائرنگ کی گئی۔ سیکریٹری کے مطابق نامعلوم افراد نے ڈرائیور اور گن مین کو تھوڑا آگے لے جا کر چھوڑ دیا اور وزیر کو نامعلوم مقام پر لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ اغوا کار کالے رنگ کی یونیفارم میں تھے۔

پیر کی شام خیبر پختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ سپیکر بابر سلیم سواتی نے عملے کو اسمبلی ہال میں مبینہ اغوا کی ویڈیو چلانے کی ہدایت کی، تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکا۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے ارکان محفوظ نہیں، حملے ہو رہے ہیں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد اغوا کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن میں پہلے بینرز اتروائے گئے، پھر ڈی آئی خان میں یوتھ کنونشن پر حملہ ہوا اور اب صوبائی وزرا کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی صورتحال سب کے سامنے ہے اور اگر کوئی سادہ لباس میں پکڑنے آئے گا تو دفاعی کارروائی ہوگی کیونکہ معلوم نہیں حملہ آور کون ہیں۔

آفریدی نے کہا کہ یہ واقعات تحریک انصاف کو 27 ستمبر کے احتجاج سے نہیں روک سکتے، تحریک پرامن رہی ہے اور آئین و قانون کے دائرے میں احتجاج کریں گے۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے اور وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں احتجاج یا سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق فضل شکور خان 2024 میں چارسدہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور اس وقت وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ہیں۔ وہ 2008 سے مسلسل چار بار اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا حصہ رہے؛ 2018 سے قبل وہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے۔

سلامتیخیبر پختونخوا

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی

پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا

اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع

وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

صحتخیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے

کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔