پاور کمیٹی کی پڈھانہ میں 132 کے وی گریڈ اسٹیشن کی سفارش، 12 کروڑ 50 لاکھ پر سوال
کمیٹی نے ہیزکو کو اضافی فنڈنگ کا کیس تیار کرنے کی ہدایت کی جبکہ ایک رکن اسمبلی نے سرائے سلیح کے نامکمل منصوبے کا ریکارڈ کھولنے کا مطالبہ کیا۔

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور ڈویژن نے جمعرات کو ہری پور کے علاقے پڈھانہ میں نیا 132 کے وی گریڈ اسٹیشن لگانے کی عوامی مفاد میں سفارش کی اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اضافی فنڈنگ کا کیس تیار کیا جائے اور تکنیکی و انتظامی اقدامات میں تیزی لائی جائے۔
کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن اسمبلی محمد ادریس کی صدارت میں ہوا، جس میں پچھلے اجلاس کے منٹس کی تصدیق کی گئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے یہ تفصیل شائع کی۔
اسی اجلاس میں ہری پور کے سرائے سلیح میں 132 کے وی گریڈ اسٹیشن کے نامکمل منصوبے پر سوالات اٹھے۔ منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق رکن اسمبلی بابر نواز خان نے پوچھا کہ منصوبہ 80 فیصد مکمل بتائے جانے کے باوجود مکمل کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے فزیبلٹی اسٹڈی، منظوری، حاصل کی گئی زمین کی قیمت، اب تک خرچ ہونے والی رقم اور منصوبے کے لیے خریدے گئے آلات کی موجودگی سے متعلق سوالات اٹھائے۔
بابر نواز خان نے پیسکو سے ہیزکو کو 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مبینہ منتقلی پر بھی سوال کیا اور مطالبہ کیا کہ مالی و تکنیکی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، بے ضابطگی ثابت ہونے پر ذمہ داری طے کی جائے اور جہاں ضروری ہو عوامی رقم واپس لی جائے۔
پاور ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ سرائے سلیح کا منصوبہ 2008 میں پرانے 66 کے وی نظام کی جگہ لینے کے لیے بنایا گیا تھا جبکہ گریڈ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ 2020 میں کیا گیا۔ ڈویژن کے مطابق بعد کی تکنیکی جانچ سے معلوم ہوا کہ علاقے کی موجودہ طلب کے پیش نظر اسے مکمل کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔
کمیٹی کے ریکارڈ سے بدعنوانی یا مالی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوتی، تاہم اس میں ممکنہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ درج ہے۔
پڈھانہ کے بارے میں پاور ڈویژن نے کہا کہ مجوزہ اسٹیشن موجودہ بجٹ میں مکمل نہیں ہو سکتا اور اس کے لیے الگ سے اضافی فنڈز طلب کرنے پڑیں گے۔ سیکرٹری پاور ڈویژن کے مطابق ہیزکو تکنیکی جواز تیار کر کے نیپرا کو غور کے لیے بھیجے گا۔ کمیٹی نے ہیزکو کے چیف ایگزیکٹو کو ہدایت دی کہ وہ فالو اپ کام شروع کرے، جس میں الگ فنڈنگ کا کیس تیار کرنا بھی شامل ہے۔ بابر نواز خان نے کہا کہ وہ اضافی وسائل کے انتظام کے لیے بھی کوشش کریں گے۔
اجلاس میں ہری پور کے رہائشیوں کی زیادہ لوڈ شیڈنگ، کم وولٹیج اور پرانے 66 کے وی نظام پر انحصار کے حوالے سے شکایات بھی زیر بحث آئیں۔
کمیٹی نے سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے علاقوں کی شکایات بھی سنیں۔ رکن اسمبلی محمد شہریار خان مہر نے صارفین پر عائد ڈیٹیکشن چارجز، چھوٹی صناعی کی جانب سے بجلی چوری، کنڈکٹر اور ٹرانسفارمر چوری اور مرمت و بحالی میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ڈیٹیکشن چارجز صرف ان افراد پر لگائے جائیں جو قواعد کے تحت ذمہ دار پائے جائیں، اور نیپرا و پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ ایسا نظام بنائیں جس سے صارفین پر بلاوجہ چارجز نہ لگ سکیں۔ سیپکو کو گڑھی تیسین، مڈیجی، لکھی اور خان پور میں بجلی چوری کی تحقیقات کا حکم دیا گیا اور اگلے اجلاس میں واقعات، درج ایف آئی آرز، کارروائی اور مزید چوری روکنے کے منصوبے کی رپورٹ طلب کی گئی۔
رکن اسمبلی خورشید احمد جونیجو نے لاڑکانہ، قمبر اور شہدادکوٹ میں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی بندش کا معاملہ اٹھایا اور لاڑکانہ میں 220 کے وی گریڈ اسٹیشن کی ضرورت بتائی۔ انہوں نے خستہ کنڈکٹر تبدیل کرنے، نئے پاور ٹرانسفارمر لگانے اور نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کی ضرورت بھی بتائی۔ کمیٹی نے سیپکو کے چیف ایگزیکٹو کو ہدایت کی کہ مجوزہ منصوبوں اور وولٹیج و بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے اقدامات پر مکمل رپورٹ پیش کریں۔
رپورٹوں میں فرق
اے پی پی نے اپنی رپورٹ کا مرکزی نکتہ پڈھانہ میں نئے گریڈ اسٹیشن کی سفارش کو بنایا اور ہری پور کی بجلی کی شکایات کو مرکزی دھارے میں رکھا۔ منٹ مرر نے اس کے برعکس رکن اسمبلی بابر نواز خان کے سرائے سلیح کے نامکمل اسٹیشن اور پیسکو سے ہیزکو کو 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کی مبینہ منتقلی سے متعلق سوالات کو نمایاں کیا اور پڈھانہ کی سفارش کو بعد میں رکھا۔ منٹ مرر نے پاور ڈویژن کا یہ بیان بھی شامل کیا کہ بعد کی تکنیکی جانچ کے مطابق سرائے سلیح کو مکمل کرنا موجودہ طلب کے پیش نظر جائز نہیں ہو سکتا، جو اے پی پی کی شائع شدہ رپورٹ میں درج نہیں، اور سیپکو اور لاڑکانہ سے متعلق کارروائی بھی شامل کی۔

کررم میں دراندازی کی کوشش ناکام، افغان طالبان کی فائرنگ پر جوابی کارروائی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دراندازے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستانی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے والی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔

پشاور میں گیس سلنڈر پھٹنے سے تین بچے جاں بحق
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے پانچ افراد ہسپتال لائے گئے، ایک خاتون اور ایک بچہ اب بھی زیر علاج ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں معطل، الیکشن کمیشن کا فیصلہ
کمیشن کے مطابق آرٹیکل 140-A صرف چند نوٹیفکیشن شدہ اضلاع کے سوا تمام علاقوں میں معطل ہے، اس لیے وہاں انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔

پشاور، مہمند اور خیبر میں ماربل فیکٹریاں سیل، پانی کی آلودگی پر کارروائی
حکومتی ذرائع کے مطابق فیکٹریاں پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود فضلہ تالابوں میں جمع کرنے کے بجائے دریا میں بہا رہی تھیں، ایک رپورٹ میں سات اور دوسری میں چھ فیکٹریوں کا ذکر ہے۔

آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او گرفتاریوں کے مقدمات کی سماعت سے روک دیا
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے خیبر پختونخوا انتظامیہ کو گرفتاریوں سے روکنے والے احکامات پر عمل فی الحال روک دیا۔

پشاور میں یو این ایچ سی آر کی برطرفیوں کے خلاف اساتذہ کا احتجاج
291 اساتذہ، جن میں 191 خواتین شامل ہیں، 35 سے 40 سال تک کیمپوں میں افغان بچوں کو پڑھاتے رہے اور 31 اکتوبر کو بغیر اطلاع اور مالی امداد کے فارغ کر دیے گئے، ڈان کے مطابق۔

لکی مروت میں پولیس کی کارروائی، خودکش بمبار سمیت دو دہشت گرد ہلاک
سرائے نورنگ تحصیل کے گنڈی چوک میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک زخمی دہشت گرد فرار ہو گیا، پولیس کے مطابق علاقے میں اس کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔

باجوڑ میں مدرسے کے استاد طالب علم کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار
پولیس کے مطابق 12 سالہ بچہ اتمان خیل تحصیل کے علاقے قازفی بندگی میں مدرسے کے اندر مار پیٹ کا نشانہ بنا، ملزم فرار ہو گیا تھا اور ملاکنڈ آر پی او کے حکم پر چھاپے میں پکڑا گیا۔