مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پشاور میں یو این ایچ سی آر کی برطرفیوں کے خلاف اساتذہ کا احتجاج

291 اساتذہ، جن میں 191 خواتین شامل ہیں، 35 سے 40 سال تک کیمپوں میں افغان بچوں کو پڑھاتے رہے اور 31 اکتوبر کو بغیر اطلاع اور مالی امداد کے فارغ کر دیے گئے، ڈان کے مطابق۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
پشاور میں یو این ایچ سی آر کی برطرفیوں کے خلاف اساتذہ کا احتجاج
تصویر: Dawn

پشاور: پشاور میں سینکڑوں اساتذہ نے منگل کے روز اپنی برطرفی کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ اساتذہ تقریباً چار دہائیوں تک مہاجر کیمپوں میں افغان بچوں کو تعلیم دیتے رہے اور ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے انہیں اچانک نوکری سے نکال دیا۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق 291 اساتذہ کو 31 اکتوبر کو فارغ کیا گیا۔ ان میں 100 مرد اور 191 خواتین شامل ہیں۔ یہ اساتذہ 35 سے 40 سال تک یو این ایچ سی آر کے تحت کیمپوں میں افغان بچوں کو پڑھاتے رہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ برطرفی سے پہلے انہیں کوئی اطلاع نہیں دی گئی اور نہ کوئی مالی امداد دی گئی۔ ڈان کے مطابق برطرفی کے بعد کیمپوں میں ان کی کلاسیں بند ہو گئیں، اور تین دن بعد پشاور میں یہ احتجاج ہوا۔

ڈان نے مظاہرین کی تعداد سینکڑوں بتائی مگر کوئی حتمی عدد نہیں دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ فارغ کیے گئے اساتذہ کون سے کیمپوں میں تعینات تھے یا پشاور میں احتجاج کہاں ہوا۔

ڈان کی رپورٹ میں یو این ایچ سی آر یا خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل شامل نہیں تھا۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اساتذہ کو کوئی مالی مراعات دی گئیں یا نہیں، اور نہ یہ کہ ان کی کلاسوں میں کتنے بچے زیر تعلیم تھے۔

پاکستان میں چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے افغان مہاجر موجود ہیں اور کیمپوں کے اندر قائم مکاتب میں زیادہ تر پاکستانی اساتذہ ہی پڑھاتے رہے ہیں۔ اس ہفتے فارغ کیے گئے 291 اساتذہ اسی یو این ایچ سی آر پروگرام کا حصہ تھے، جہاں ڈان کے مطابق وہ 1980 کی دہائی سے تعینات تھے۔

برطرفی کے بعد کیمپوں کی کلاسیں ان اساتذہ سے محروم ہو گئی ہیں جو وہاں پڑھاتے تھے۔ ڈان کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یو این ایچ سی آر ان کی جگہ نئے اساتذہ رکھے گا یا نہیں، اور نہ یہ کہ اس کمی کو کیسے پورا کیا جائے گا۔

رپورٹوں میں فرق

ڈان نے پشاور کے احتجاج کو دو بار شائع کیا، ایک مختصر رپورٹ اور ایک لیڈ کے طور پر، اور دونوں میں اعداد و شمار ایک جیسے تھے: 291 اساتذہ، 100 مرد اور 191 خواتین، جو 31 اکتوبر کو فارغ کیے گئے۔ فائل میں شامل تیسری رپورٹ جرنلزم پاکستان کی تھی جو صحافیوں کے پیکا کے خلاف الگ احتجاج سے متعلق تھی اور اس کا پشاور کے اساتذہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

سیاستخیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا کے گورنر کا وفاق پر صوبے کو نظرانداز کرنے کا الزام

فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں یورولوجیکل سرجنز کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی صحت کی سہولیات پنجاب اور سندھ کی طرز پر بہتر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔

سیاستخیبر پختونخوا

صوبے کے وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے، گورنر خیبر پختونخوا

فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں عرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہر کی کوئی بھی پارٹی مقامی لوگوں کی رضامندی سے مشترکہ منصوبے کے ذریعے ہی آ سکتی ہے۔

سلامتیخیبر پختونخوا

پشاور میں باراتی بس کی ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکر، دو بچے جاں بحق

ریسکیو 1122 کے مطابق بڈھ بیر کے علاقے سفین میں 15 زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی، جن میں سے آٹھ کو مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

سلامتیخیبر پختونخوا

پشاور سیف سٹی: ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون ریڈار کمانڈ روم سے منسلک

پولیس حکام کے مطابق یہ پاکستان کا پہلا سیف سٹی منصوبہ ہے جس میں فضائی ڈرون یونٹ کے ساتھ پانچ کلومیٹر تک ڈرونز کا پتہ لگانے والا نظام بھی جوڑا گیا ہے۔

سلامتیخیبر پختونخوارپورٹوں میں فرق

لکی مروت میں پولیس کی کارروائی، خودکش بمبار سمیت دو دہشت گرد ہلاک

سرائے نورنگ تحصیل کے گنڈی چوک میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک زخمی دہشت گرد فرار ہو گیا، پولیس کے مطابق علاقے میں اس کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔

تعلیمخیبر پختونخوارپورٹوں میں فرق

باجوڑ میں مدرسے کے استاد طالب علم کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار

پولیس کے مطابق 12 سالہ بچہ اتمان خیل تحصیل کے علاقے قازفی بندگی میں مدرسے کے اندر مار پیٹ کا نشانہ بنا، ملزم فرار ہو گیا تھا اور ملاکنڈ آر پی او کے حکم پر چھاپے میں پکڑا گیا۔

سلامتیخیبر پختونخوارپورٹوں میں فرق

اعلیٰ سطح اجلاس: خیبر پختونخوا میں آئی بی اوز کی توسیع کا فیصلہ

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بلاول بھٹو زرداری شریک ہوئے، صوبے میں 11 اکتوبر سے گورنر راج نافذ ہے

سیاستخیبر پختونخوارپورٹوں میں فرق

بیلور نے فضل الرحمن پر لیبیا فنڈز اور تجاوزات کے الزامات لگائے

سمر ہارون بیلور کا کہنا ہے کہ پشاور رنگ روڈ پر بننے والا مفتی محمود سینٹر لیبیا کی رقم سے تعمیر ہوا جبکہ ملکیت کے ریکارڈ میں جائیداد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کے نام پر درج ہے۔