حکومت نے بڑے صارفین کے لیے بجلی ویلنگ نیلامی جاری کی
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ایک میگاواٹ سے زائد استعمال کرنے والے صارفین براہ راست بجلی کمپنیوں سے خرید سکیں گے اور بعد میں گھریلو صارفین تک نظام وسیع کیا جائے گا۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے اتوار کو بجلی ویلنگ کی پہلی نیلامی کے لیے درخواست برائے تجاویز جاری کیں، جس سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور بڑے خریداروں کے درمیان براہ راست تجارت کا راستہ کھل گیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ حکومت اب بجلی خرید کر مقررہ ریٹ پر صارفین کو فراہم نہیں کرے گی بلکہ پیدا کرنے والے اور خریدنے والے شفاف طریقہ کار کے تحت خود خرید و فروخت کریں گے۔
پاور ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق اگلے پانچ برسوں میں مجموعی طور پر 800 میگاواٹ بجلی نیلام کرنے کا منصوبہ ہے اور پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ مسابقتی بنیادوں پر فراہم کی جائے گی۔ یہ نیلامی مسابقتی تجارت کی باہمی معاہدے کی مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت ہوگی، جس میں کاروباری اور صنعتی صارفین بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے براہ راست خرید سکیں گے۔ اویس لغاری نے کہا کہ آغاز بڑے یا صنعتی صارفین سے ہوگا جو ایک میگاواٹ سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں، اور آئندہ برسوں میں 200 یا 400 یونٹ استعمال کرنے والے عام صارفین تک نظام وسیع کیا جائے گا۔
توانائی شعبے کی ماہر عافیہ ملک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ویلنگ کا مطلب ہے کہ صارف کسی بھی بجلی پیدا کرنے والے ادارے سے معاہدہ کرے اور خریدی گئی بجلی حکومت کے موجودہ ترسیلی و تقسیمی نظام کے ذریعے پہنچائی جائے، جس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں صرف بڑی صنعتیں جیسے ٹیکسٹائل، سیمنٹ اور فرٹیلائزر اہل ہوں گی، جبکہ چھوٹی صنعتیں اور گھریلو صارفین شامل نہیں ہوں گے۔
پالیسی ریسرچ انسٹیٹوٹ برائے ایکوٹیبل ڈویلپمنٹ کے توانائی شعبے کے ماہر منظور احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ اقدام 1990 کی دہائی کے اوائل میں عالمی بینک کی متعارف کرائی گئی پاور سیکٹر لبرلائزیشن پالیسی کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد دو تین دہائیاں تاخیر سے ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ مسابقتی مارکیٹ سے خریدی گئی بجلی واقعی سستی ہوگی یا نہیں، کیونکہ خریدار کو حکومتی انفراسٹرکچر کے استعمال کی مد میں لائن رینٹ بھی ادا کرنا ہوگا۔
عافیہ ملک نے کہا کہ ویلنگ لاگت ہی طے کرے گی کہ بڑے صارفین کو سستی بجلی ملتی ہے یا نہیں، اور انہیں فوری طور پر صنعتی ٹیرف میں بڑی کمی کا امکان نظر نہیں آتا کیونکہ حکومت کو کیپسٹی پیمنٹس اور نظام کے نقصانات کی وصولی کرنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2026 کے لیے حکومت کو بجلی کمپنیوں کو 1900 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کرنی ہے اور ٹیکسوں و سرچارجز کے علاوہ فی یونٹ اوسطاً 34 روپے کے قریب ہے۔ گھریلو صارفین کے لیے فی الحال اس نظام میں کوئی ریلیف نہیں اور نئے نظام کے فوائد پہنچنے میں چند سال لگیں گے۔
اویس لغاری نے کہا کہ اس نظام سے صنعت کو سستی بجلی ملے گی، پیداواری لاگت کم ہوگی اور برآمد کنندگان بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 25 سے 30 سال میں ہر حکومت کی یہ خواہش رہی لیکن کوئی عملی قدم نہیں اٹھا سکی، موجودہ حکومت نے اسے عملی جامہ پہنایا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔