پاکستان سمیت آٹھ ممالک کا غزہ جنگ بندی برقرار رکھنے کا مطالبہ
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے انسانی امداد کی فوری اور محفوظ ترسیل کا مطالبہ کیا۔

دفتر خارجہ کے بیان کے حوالے سے انڈیپنڈنٹ اردو نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر غزہ کے بارے میں مشترکہ مؤقف اختیار کیا۔
اجلاس میں مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں انسانی صورت حال سنگین ہے اور اسرائیل کو چاہیے کہ وہ جامع منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت اپنی ذمہ داریاں فوری پوری کرے۔ اس میں امدادی سامان اور بحالی کے لیے ضروری اشیا کی بلا روک ٹوک ترسیل اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت شامل ہے۔
وزرائے خارجہ نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور اس کی خلاف ورزیاں روکنے پر زور دیا۔ انہوں نے روڈ میپ کو جامع منصوبے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ دوسرے مرحلے کے لیے راستہ طے کرتا ہے۔ اس میں اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا، اسلحے کا خاتمہ، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی، غزہ کی انتظامیہ کے لیے بنائی گئی قومی کمیٹی کا پوری پٹی میں اختیارات سنبھالنا اور تعمیر نو کا آغاز شامل ہے۔ بیان میں تمام فریقین سے کہا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور تاخیر کے بغیر پوری کریں۔
مشترکہ بیان میں کسی بھی ایسی کوشش کو مسترد کیا گیا جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکالنا یا مقبوضہ علاقے کی جغرافیائی یا آبادیاتی صورت بدلنا ہو۔ اسرائیلی بستیوں کی توسیع، زمینوں پر قبضے، گھروں کی مسماری اور آباد کاروں کے تشدد پر تشویش ظاہر کی گئی اور انہیں فوری روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یروشلم میں مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کی حیثیت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے برطانیہ کے حالیہ اقدام کو سراہا جس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارت روکنے کا فیصلہ شامل ہے۔ انہوں نے بستیوں کی توسیع روکنے اور آباد کاروں کے تشدد پر احتساب کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا حصہ ہے اور جامع منصوبے کے نفاذ سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کو غزہ کے ساتھ دوبارہ ملانا چاہیے۔ یہ اقدام ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف قابل اعتماد اور ناقابل واپسی راستہ ہونا چاہیے جو دو ریاستی حل کے ذریعے ممکن ہو۔
آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہا گیا اور امریکہ سے کہا گیا کہ وہ جامع منصوبے کے نفاذ میں اپنا فعال کردار جاری رکھے تاکہ اسرائیل سمیت تمام فریق اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ آٹھوں ممالک نے امریکہ، بورڈ آف پیس، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر فریقین کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔