پشاور سول سیکرٹریٹ مسجد میں دھمکی کے بعد خالی کرا لیا گیا
ملازمین کو فوری طور پر دفاتر چھوڑنے کی ہدایت دی گئی، پولیس نے تصدیق کی کہ تمام دفاتر خالی کر دیے گئے ہیں۔

پشاور: سول سیکرٹریٹ کو جمعے کے روز مسجد کے لیے جاری سیکیورٹی الرٹ کے بعد خالی کرا لیا گیا اور تمام ملازمین کو فوری طور پر دفاتر چھوڑنے کی ہدایت کی گئی۔ یہ بات ڈان اور اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرنے والے ذرائع نے بتائی۔
سینئر سیکرٹریٹ حکام نے ڈان کو بتایا کہ کوہاٹ دھماکے کے بعد تقریباً 3 دن سے سیکیورٹی بڑھائی گئی تھی اور الرٹ سیکرٹریٹ کے اندر واقع مسجد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ ملازمین نے ڈان سے کہا کہ انہیں فوری طور پر روانہ ہونے کو کہا گیا اور روانگی سے قبل کوئی مزید ہدایت نہیں دی گئی۔
اے آر وائی نیوز نے سیکرٹریٹ کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ تمام دفاتر خالی کرائے جا رہے ہیں اور زیادہ تر ملازمین و افسران ہدایت کے بعد روانہ ہو چکے ہیں۔ پولیس نے انخلا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر سیکرٹریٹ بند کر دیا گیا، تمام دفاتر کلیئر کر دیے گئے اور ملازمین کو چھٹی دے دی گئی۔ حکام نے واضح کیا کہ الرٹ صرف مسجد کے لیے تھا، پورے سیکرٹریٹ کے لیے نہیں۔
پولیس اور سیکرٹریٹ حکام نے دھمکی کی نوعیت یا معمول کے کام کی بحالی کے وقت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ صوبے میں حالیہ حملوں کے بعد خیبر پختونخوا بھر میں سیکیورٹی بڑھائی گئی ہے۔
ڈان نے یہ بھی بتایا کہ 18 ستمبر کو دو طرفہ حملے میں کم از کم 23 افراد بشمول 15 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے، تاہم اس حملے کو جمعے کے انخلا سے براہ راست جوڑنے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ سیکرٹریٹ حکام نے جس کوہاٹ دھماکے کا ذکر کیا، ڈان نے اس کی تاریخ فراہم نہیں کی۔
اے آر وائی نیوز نے الگ سے بتایا کہ پاکستان نے 23 ستمبر کو افغانستان سے آنے والے 8 ڈرون مار گرائے، جن میں سے 4 طورخم بارڈر کے قریب اور 4 کوہاٹ کے پہاڑی علاقوں میں روکے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اے آر وائی کو بتایا کہ مبینہ دراندازی دہشت گردوں کی حمایت کا ثبوت ہے اور پاکستانی فورسز نے کرم سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد پوزیشنیں تباہ کر دیں۔ رپورٹ میں ان واقعات کو سیکرٹریٹ کے انخلا سے براہ راست نہیں جوڑا گیا۔
سول سیکرٹریٹ میں خیبر پختونخوا حکومت کے انتظامی دفاتر موجود ہیں۔ انخلا کے دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ پولیس نے دھمکی کے سلسلے میں کسی گروہ کا نام نہیں لیا۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔