پشاور ہائی کورٹ: ہاتھ سے تیار تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی غیر قانونی
دو رکنی بینچ نے کاشت کاروں، کمپنیوں اور تھریشنگ یونٹس کی 14 درخواستیں نمٹا دیں، جن میں ڈیوٹی، گوداموں کی سیل اور ضبطی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سبز پتی اور ہاتھ سے تیار تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اس وقت تک عائد نہیں کی جا سکتی جب تک اسے گرین لیف تھریشنگ (جی ایل ٹی) یونٹ میں پروسیس کر کے تبدیل نہ کیا جائے۔ ڈان نے یہ رپورٹ دی ہے۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے یہ حکم 14 درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے دیا۔ اخبار کے مطابق درخواستیں تمباکو کاشت کاروں، تمباکو کمپنیوں اور جی ایل ٹی یونٹس نے دائر کی تھیں۔
درخواست گزاروں نے ہاتھ سے تیار تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ، بعض درخواست گزاروں کے گوداموں اور اسٹوروں کو سیل کرنے، اور وہاں موجود غیر تیار تمباکو اور مشینری ضبط کرنے کو چیلنج کیا تھا۔
پروپاکستانی نے بتایا کہ یہ فیصلہ جمعرات کو سنایا گیا اور اس نے رپورٹ میں اسے سبز پتیوں اور ہاتھ سے بنے تمباکو پر ڈیوٹی سے متعلق قرار دیا۔
اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ ڈیوٹی پتی پر ہاتھ سے تنکے نکالنے کے مرحلے پر عائد نہیں ہوتی، یعنی تھریشنگ یونٹ سے گزرنے سے پہلے۔ ڈان نے فیصلے کو انہی الفاظ میں بیان کیا کہ ڈیوٹی کے لیے جی ایل ٹی یونٹ میں پروسیسنگ اور تبدیلی ضروری ہے۔
دونوں رپورٹوں کی سرخیوں میں ایک ہی فیصلے کو مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا۔ ڈان کی سرخی میں ہاتھ سے تیار تمباکو کا ذکر تھا جبکہ پروپاکستانی کی سرخی میں سبز پتیوں اور ہاتھ سے بنے تمباکو کا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق بینچ نے حکم کے ساتھ کئی ہدایات بھی جاری کیں، تاہم دونوں اداروں کے شائع شدہ مواد میں ان ہدایات کا متن موجود نہیں تھا۔
ڈان کے مطابق بینچ نے درخواستیں نمٹا دیں، یہ نہیں بتایا گیا کہ درخواست گزاروں کے وہ گودام دوبارہ کھلیں گے جنہیں سیل کیا گیا تھا، یا ضبط شدہ مشینری اور غیر تیار تمباکو واپس کیا جائے گا۔

آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او گرفتاریوں کے مقدمات کی سماعت سے روک دیا
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے خیبر پختونخوا انتظامیہ کو گرفتاریوں سے روکنے والے احکامات پر عمل فی الحال روک دیا۔
پشاور ہائی کورٹ نے ایم پی او کے تحت حراست میں 150 پی ٹی آئی کارکنوں کو ضمانت دے دی
دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق یہ حکم ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت رکھے گئے 150 افراد پر محیط ہے، تاہم بینچ، اضلاع یا تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

ہزارہ موٹروے پر بس اور ڈمپر میں ٹکر، آٹھ ہلاک، 30 زخمی
گلگت سے راولپنڈی جا رہی مسافر بس ہویلیاں انٹرچینج کے قریب ڈمپر ٹرک سے ٹکرا گئی، ریسکیو حکام کے مطابق ریسکیو 1122 ایبٹ آباد نے سات ایمبولینسز موقع پر بھیجیں۔

پاور کمیٹی کی پڈھانہ میں 132 کے وی گریڈ اسٹیشن کی سفارش، 12 کروڑ 50 لاکھ پر سوال
کمیٹی نے ہیزکو کو اضافی فنڈنگ کا کیس تیار کرنے کی ہدایت کی جبکہ ایک رکن اسمبلی نے سرائے سلیح کے نامکمل منصوبے کا ریکارڈ کھولنے کا مطالبہ کیا۔

کررم میں دراندازی کی کوشش ناکام، افغان طالبان کی فائرنگ پر جوابی کارروائی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دراندازے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستانی فوج نے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے والی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔

پشاور میں گیس سلنڈر پھٹنے سے تین بچے جاں بحق
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے پانچ افراد ہسپتال لائے گئے، ایک خاتون اور ایک بچہ اب بھی زیر علاج ہیں۔

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں معطل، الیکشن کمیشن کا فیصلہ
کمیشن کے مطابق آرٹیکل 140-A صرف چند نوٹیفکیشن شدہ اضلاع کے سوا تمام علاقوں میں معطل ہے، اس لیے وہاں انتخابات نہیں کرائے جا سکتے۔

پشاور، مہمند اور خیبر میں ماربل فیکٹریاں سیل، پانی کی آلودگی پر کارروائی
حکومتی ذرائع کے مطابق فیکٹریاں پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود فضلہ تالابوں میں جمع کرنے کے بجائے دریا میں بہا رہی تھیں، ایک رپورٹ میں سات اور دوسری میں چھ فیکٹریوں کا ذکر ہے۔