پشاور: رنگ روڈ کے ساتھ 450 سے زائد تعمیرات مسمار
ڈان اور پروپاکستانی کے مطابق سرکاری زمین پر بنی دکانیں اور مارکیٹیں گرا دی گئیں؛ علیحدہ طور پر لاہور رنگ روڈ اتھارٹی نے متعدد خلاف ورزیوں پر جرمانہ 10,000 روپے کر دیا۔
پشاور میں رنگ روڈ کے ساتھ سرکاری زمین پر بنی 450 سے زائد دکانیں، مارکیٹیں اور دیگر تعمیرات مسمار کر دی گئی ہیں۔ یہ اطلاع دو پاکستانی اخبارات نے دی ہے۔ کسی جانی نقصان کا ذکر دونوں رپورٹوں میں نہیں ہے۔
ڈان کے مطابق پشاور کی رنگ روڈ کے ساتھ 450 سے زائد غیر قانونی تعمیرات گرا دی گئیں۔ پروپاکستانی نے بھی یہی تعداد بتائی اور کہا کہ مسمار کی گئی عمارتوں میں دکانیں، مارکیٹیں اور سرکاری زمین پر بنی دیگر تعمیرات شامل ہیں، جنہیں اس کی رپورٹ کے مطابق جاری کارروائی کے دوران ہٹایا گیا۔
دونوں رپورٹوں میں صفائی کی وسعت پر اتفاق ہے، تاہم اس اخبار کو دستیاب مواد کے مطابق کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ کارروائی کون سا محکمہ یا ادارہ کر رہا ہے، یہ کب شروع ہوئی، یا مالکان کو تعمیرات گرانے سے پہلے نوٹس دیا گیا اور بعد میں معاوضہ دیا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ خالی کی گئی زمین کا کیا مصرف ہوگا، کتنی زمین آزاد ہوئی، یا کسی متاثر تاجر نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
دستیاب مواد میں دونوں رپورٹوں کے ساتھ ضلع انتظامیہ یا کسی صوبائی محکمے کا باقاعدہ بیان بھی شامل نہیں ہے۔
پاکستانی شہروں میں ضلعی انتظامیہ سرکاری زمین پر قبضوں کی صفائی کا عمل بار بار کرتی رہی ہے، اور ایسی کارروائیوں پر تاجر اکثر نوٹس، معاوضے اور برسوں میں بنے کاروبار کے ضیاع پر اعتراض کرتے ہیں۔ پشاور کی رنگ روڈ شہر کی اہم ترین شاہراہوں میں سے ایک ہے۔
اس سے علیحدہ، لاہور رنگ روڈ اتھارٹی نے متعدد خلاف ورزیوں پر ٹریفک جرمانے بڑھا کر 10,000 روپے کر دیے ہیں، پروفٹ نے رپورٹ کیا۔ دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ یہ جرمانہ کن خلاف ورزیوں پر عائد ہوگا، کب سے نافذ ہوگا، یا یہ اضافہ پوری لاہور رنگ روڈ پر لاگو ہوگا، اور نہ یہ بتایا گیا کہ اتھارٹی نے جرمانوں کا نظرثانی شدہ شیڈول جاری کیا ہے یا نہیں۔
پشاور اور لاہور کی یہ رپورٹیں الگ الگ شہروں اور الگ الگ کارروائیوں سے متعلق ہیں، اور کوئی اشارہ نہیں ملا کہ ان میں کوئی تعلق ہے۔
سکردو ٹائمز پشاور میں مسمار کی گئی تعمیرات کی تعداد یا لاہور میں 10,000 روپے کے نئے جرمانے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔