پشاور سیف سٹی: ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون ریڈار کمانڈ روم سے منسلک
پولیس حکام کے مطابق یہ پاکستان کا پہلا سیف سٹی منصوبہ ہے جس میں فضائی ڈرون یونٹ کے ساتھ پانچ کلومیٹر تک ڈرونز کا پتہ لگانے والا نظام بھی جوڑا گیا ہے۔

پشاور سیف سٹی پروجیکٹ نے اپنے مرکزی کمانڈ روم سے ایک ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون نظام منسلک کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق پاکستان میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی سیف سٹی منصوبے میں ڈرون یونٹ اور اینٹی ڈرون نظام کو ایک ساتھ شامل کیا گیا ہے۔ ٹیک جوس اور پروپاکستانی دونوں نے 28 اکتوبر کو یہ رپورٹ شائع کی۔
حکام کے مطابق اینٹی ڈرون نظام پانچ کلومیٹر کے ریڈار رینج میں ڈرونز کی نشاندہی اور نگرانی کر سکتا ہے اور مشتبہ فضائی سرگرمی کی صورت میں سیف سٹی کنٹرول روم کو خودکار الرٹ بھیجتا ہے۔
ڈرون یونٹ حساس مقامات، ٹریفک اور ممکنہ مجرمانہ و دہشت گردانہ خطرات پر چوبیس گھنٹے فضائی نگرانی کرے گا۔ ڈرونز کی لائیو فیڈز کے ذریعے عملہ فیلڈ آپریشنز کو حقیقی وقت میں دیکھ سکے گا اور زمین پر موجود اہلکاروں تک معلومات پہنچائے گا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ نظام چار اضلاع میں کام کرے گا: پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت۔ انہوں نے بتایا کہ فیڈز انسداد دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) کے آپریشنز کی معاونت کے لیے بھی استعمال ہوں گی تاکہ خطے میں ہم آہنگی بہتر ہو سکے۔
دونوں رپورٹس میں ان پولیس حکام کے نام نہیں بتائے گئے جنہوں نے یہ تفصیلات فراہم کیں، اور نہ ہی لاگت، ٹھیکیدار، ڈرونز کی تعداد یا نظام کے فعال ہونے کی کوئی تاریخ درج ہے۔ سکردو ٹائمز ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت ایسے اضلاع ہیں جہاں گزشتہ برسوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملے بار بار ہوئے ہیں اور جہاں عسکریت پسند گروہوں کی نقل و حرکت صوبائی حکومت کے لیے مستقل تشویش کا باعث رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں کئی برس سے کیمرہ نیٹ ورک اور مانیٹرنگ سسٹم پر مشتمل سیف سٹی نظام موجود ہے۔
صوبائی حکومتوں کے سیف سٹی منصوبوں میں کیمرہ نیٹ ورک، سینسر اور مرکزی مانیٹرنگ سہولت شامل ہوتی ہے اور یہ صوبائی سکیورٹی بجٹ کا مستقل حصہ رہے ہیں۔ دونوں رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پشاور میں ڈرون نظام پورے شہر پر محیط ہو گا یا منتخب مقامات پر۔
دونوں رپورٹس ایک ہی سرکاری بریفنگ پر مبنی ہیں، اور ان میں دی گئی تکنیکی تفصیلات، جن میں پانچ کلومیٹر ریڈار رینج اور چار اضلاع کی فہرست شامل ہے، کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکیں۔

خیبر پختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی نظربندی کالعدم کرنے والے فیصلے چیلنج کر دیے
وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں بینچ ان درخواستوں پر سماعت کرے گا جو چیف سیکریٹری کے توسط سے دائر کی گئیں اور جن میں 51 کارکنان شامل ہیں۔

خیبر میں پولیو کا نیا کیس، رواں سال آٹھویں کیس کی تصدیق
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 نومبر سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں مہم چلے گی جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 24 ملین بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

اپر دیر پولیس نے نوعمر لڑکے پر حملے کے پانچ ملزمان گرفتار کر لیے
واری سرکل کے ڈی ایس پی فخر عالم نے ڈان کو گرفتاریوں کی تصدیق کی، مقدمہ 30 اکتوبر کو درج ہوا جبکہ واقعہ 25 اکتوبر کا بتایا گیا ہے اور ایک ملزم اب بھی فرار ہے۔

صوبے کے وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے، گورنر خیبر پختونخوا
فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں عرس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہر کی کوئی بھی پارٹی مقامی لوگوں کی رضامندی سے مشترکہ منصوبے کے ذریعے ہی آ سکتی ہے۔