وزیراعظم کی خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کی ہدایت
شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کو گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات سے آگاہ کیا، جبکہ الیکشن کمیشن 23 اضلاع میں فوری انتخابات کا حکم دے چکا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری اور پارٹی کو مزید متحرک کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے پارلیمانی پارٹی کو خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا۔
آج نیوز کے مطابق اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی اور سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مسلم لیگ (ن) کو خیبرپختونخوا میں مزید فعال بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ تنظیمی عہدیداروں کو صوبے میں انتخابی سرگرمیوں اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔
یہ ہدایت ایسے وقت میں دی گئی جب ایک روز قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبے کے ان تمام اضلاع میں فوری بلدیاتی انتخابات کا حکم دیا تھا جہاں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے 28 اکتوبر کو تاخیر سے متعلق محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ انتخابی حکام کو شیڈول تیار کرنے کی ہدایت کی۔ 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہیں جبکہ باقی اضلاع میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔
کمیشن نے واضح کیا کہ آئینی ہنگامی حالت سے متاثرہ 12 قبائلی اضلاع میں فی الحال بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے۔ ان اضلاع میں کرم، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہیں۔ صوبائی انتظامیہ نے امن و امان کی صورت حال، بعض علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور ہنگامی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ کمیشن نے صوبائی حکومت اور انتظامی اداروں کو انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ مقامی حکومتوں کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد سے تاخیر کا شکار ہے۔ پہلے مرحلے میں منتخب اداروں کی چار سالہ مدت مارچ 2026 اور دوسرے مرحلے کے اداروں کی مدت جون 2026 میں ختم ہو گئی تھی، تاہم بلدیاتی قوانین میں ترامیم اور دیگر انتظامی مسائل کے باعث حلقہ بندیوں کا عمل متاثر ہوا۔
وفاقی کابینہ نے 11 اکتوبر 2026 کو وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی، اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسی روز وزیراعظم کی ایڈوائس پر سمری پر دستخط کیے۔ حکومت نے بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مطلوبہ تعاون کی کمی کو اس اقدام کی وجوہات قرار دیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبائی حکومت کے انتظامی امور کی ذمہ داری سونپی گئی اور ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے 15 اکتوبر 2026 کو صدارتی اعلانات کی منظوری دی۔
اجلاس میں صوبے کے ترقیاتی کاموں اور پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں امیر مقام، زاہد خان، مرتضیٰ عباسی، رانا ثنا اللہ اور احسن اقبال شامل ہیں۔ امیر مقام کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کمیٹی میں خیبرپختونخوا سے مزید ارکان شامل کر سکتے ہیں، اور کمیٹی ترقیاتی و تنظیمی امور سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔
اردو پوائنٹ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا نے الگ بیان میں کہا کہ پاک فوج نے افغانستان کی جارحیت کا بھرپور جواب دیا ہے اور پاکستان کی سلامتی پر حملہ کرنے والوں کو بھی جواب دیا جائے گا۔
رپورٹس میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 23 اضلاع کے لیے انتخابی شیڈول کب جاری کیا جائے گا۔
ویڈیو

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔