مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پولیو مہم: چار روز میں 22.1 ملین سے زیادہ بچوں کو قطرے پلائے گئے

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 97 اضلاع میں جاری مہم کا پانچواں روز چل رہا ہے اور ٹیمیں 8 نومبر تک کام جاری رکھیں گی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
پولیو مہم: چار روز میں 22.1 ملین سے زیادہ بچوں کو قطرے پلائے گئے
تصویر: Associated Press of Pakistan

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) نے جمعہ کو بتایا کہ 97 اضلاع میں چلنے والی ذیلی پولیو مہم کے پہلے چار روز میں 22.1 ملین سے زیادہ بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ یہ راؤنڈ 8 نومبر تک جاری رہے گا۔

سینٹر کے مطابق مہم کا پانچواں روز جاری ہے اور ویکسینیشن کا کام بغیر کسی تعطل کے 8 نومبر تک چلتا رہے گا۔ بیان میں بتایا گیا کہ اس راؤنڈ کا ہدف پانچ سال سے کم عمر تقریباً 24 ملین بچے ہیں۔

22.1 ملین کا عدد صرف ان 97 منتخب اضلاع کا ہے جو اس راؤنڈ میں شامل کیے گئے ہیں، ملک کے تمام اضلاع کا نہیں۔ جو اضلاع اس مہم میں شامل نہیں وہ اس شمار میں نہیں آتے، اور بیان میں صوبائی یا ضلعی سطح پر الگ اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے ذریعے جاری بیان میں روزانہ کے الگ اعداد بھی نہیں دیے گئے اور نہ یہ بتایا گیا کہ کتنے بچوں تک رسائی نہ ہو سکی۔ بیان میں 24 ملین کے ہدف کے مقابلے میں کوریج کا فیصد بھی نہیں بتایا گیا۔

پنجاب میں دی نیوز نے خبر دی کہ 6 ملین سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ صوبے کا یہ عدد کن دنوں کا ہے یا یہ سینٹر کے شمار کردہ 22.1 ملین میں شامل ہے۔

چار روز کا یہ عدد جمعہ کے روز، یعنی مہم کے پانچویں دن، پلائے گئے قطروں کو شامل نہیں۔ سینٹر نے پانچویں روز کا کوئی عدد نہیں دیا اور صرف یہ بتایا کہ ٹیمیں 8 نومبر تک شیڈول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

بیان میں مہم کو جاری ذیلی حفاظتی ٹیکوں کی مہم قرار دیا گیا۔ کسی ضلع کا نام نہیں لیا گیا اور کسی ایک ضلع کا الگ ہدف نہیں بتایا گیا۔

یہ بیان سرکاری خبر رساں ایجنسی کے ذریعے جاری ہوا۔ اس میں سینٹر کے کسی اہلکار کا نام نہیں دیا گیا اور نہ کسی صوبائی محکمہ صحت کا بیان شامل کیا گیا۔

رپورٹوں میں فرق

ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے قومی اعداد کو سرفہرست رکھا: 97 اضلاع میں چار روز کے دوران 22.1 ملین بچے، جبکہ پانچ سال سے کم عمر تقریباً 24 ملین بچوں کا ہدف ہے۔ دی نیوز نے صوبائی عدد کو نمایاں کیا اور بتایا کہ پنجاب میں 6 ملین سے زیادہ بچوں کو قطرے پلائے گئے، تاہم یہ نہیں بتایا کہ یہ عدد کن دنوں کا ہے یا قومی شمار سے کیسے جڑتا ہے۔ اے پی پی نے 8 نومبر کی اختتامی تاریخ اور اضلاع کی تعداد بتائی، دی نیوز کی شائع شدہ رپورٹ میں یہ دونوں باتیں موجود نہیں۔

صحت

پولیو ٹیموں کی حفاظت: پنجاب میں 1,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات

چار روزہ مہم کے لیے پنجاب کی تعیناتی اے پی پی نے رپورٹ کی، جبکہ کراچی میں 8,000 سے زائد اہلکار تعینات کرنے کی خبر دی ہندو نے دی۔

صحتخیبر پختونخوا

خیبر میں پولیو کا نیا کیس، رواں سال آٹھویں کیس کی تصدیق

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 نومبر سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں مہم چلے گی جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 24 ملین بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

صحترپورٹوں میں فرق

نواں پولیو کیس، وزیراعظم کا ایک ہفتے میں قومی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت

نو کیسز میں سے سات خیبر پختونخوا میں ہیں، اور اہلکاروں نے بتایا کہ خیبر کے تینوں کیسز افغانستان میں گردش کرنے والے وائرس سے منسلک ہیں۔

سلامتیخیبر پختونخوارپورٹوں میں فرق

مہمند میں پولیو ڈیوٹی پر جانے والے دو پولیس اہلکار شہید

پنڈیالئی تحصیل کے علاقے دگ تمنزئی میں ہاشم کور چوکی کے قریب فائرنگ، ایک اہلکار زخمی، پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا

معیشترپورٹوں میں فرق

وزیرِاعظم نے ٹی ڈی اے پی کی جدید کاری کا منصوبہ منظور کر لیا

اجلاس میں ادارے کے دائرۂ کار کو آٹھ بنیادی افعال تک محدود کرنے اور میرٹ پر بھرتی کی ہدایت دی گئی، اصلاحات آئندہ برس کے وسط تک مکمل کرنی ہیں۔

سیاست

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دفتر خارجہ کو حساب کتاب سخت کرنے کی ہدایت دی

کمیٹی نے کہا کہ بیرونِ ملک مشنوں میں تعینات عملہ عوامی فنڈز میں خردبرد کر رہا ہے، نئے سیکرٹری عاصم افتخار احمد کو نئے قواعد کمیٹی کو بھیجنے کا حکم دیا گیا۔

سلامتیرپورٹوں میں فرق

پی ٹی اے اور میٹا نے ری سائیکل شدہ سمز پر بنے 176,000 واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کیے

اتھارٹی نے تقریباً 10 ملین ری سائیکل شدہ نمبر میٹا کو فراہم کیے ہیں اور ہر ماہ 5,000 نمبر بھیجے جائیں گے تاکہ پرانی سم منسوخ ہونے کے بعد فعال رہ جانے والے اکاؤنٹس بند کیے جا سکیں۔

سیاست

قائمہ کمیٹی نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز بل پھر مؤخر کر دیا، پی پی پی سے مشاورت جاری

پی ٹی اے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ تین ماہ میں پانچ شوکاز نوٹس جاری ہوئے، مگر عدالتی سٹے آرڈرز کی وجہ سے جرمانے وصول نہیں ہو رہے۔