مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پی پی ایل کا 99 ارب روپے منافع، 284 ارب کی بلند ترین وصولیاں

کمپنی کے 75ویں سالانہ اجلاس عام میں حصہ داروں نے 60 فیصد حتمی نقد منافع کی منظوری دی، جس کے بعد سال بھر کی کل ادائیگی 120 فیصد ہو گئی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
پی پی ایل کا 99 ارب روپے منافع، 284 ارب کی بلند ترین وصولیاں

پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے مالی سال 26 کے لیے 99 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع اور اب تک کی بلند ترین 284 ارب روپے کی وصولیاں ریکارڈ کی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ڈان نے کمپنی کے 75ویں سالانہ اجلاس عام کے حوالے سے شائع کیے۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں بڑی تعداد میں حصہ داروں نے شرکت کی، جہاں مالی سال 26 کے مالیاتی گوشواروں کے ساتھ آڈیٹرز اور ڈائریکٹرز کی رپورٹس بھی منظور کی گئیں۔ عام حصص پر 60 فیصد حتمی نقد منافع کی بھی منظوری دی گئی، جس کے بعد سال بھر کی کل منافع ادائیگی 120 فیصد ہو گئی۔

ڈان کی شہہ سرخی کے مطابق کمپنی نے سال کے دوران 11 دریافتیں کیں۔ تاہم اجلاس کی تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا کہ پی پی ایل نے مالی سال 26 میں سات ایکسپلوریشن اور چار ڈیولپمنٹ کنویں کھودے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن کنویں کو دریافتوں میں شمار کیا گیا، اور کمپنی کا مکمل بیان دستیاب نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق اوسط پیداوار 649 ملین مکعب فٹ یومیہ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 3 فیصد زیادہ ہے۔

پی پی ایل ملک کی بڑی تیل و گیس ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اس کے حصص پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کرتے ہیں۔ کمپنی کے سالانہ نتائج کو اس پیمانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ملکی گیس کی پیداوار کا کتنا حصہ اندرون ملک کنووں سے پورا ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں گزشتہ سال کے منافع سے کوئی موازنہ نہیں دیا گیا اور نہ وصولیوں کے اعداد و شمار کی تفصیل دی گئی۔ رپورٹ میں پی پی ایل کے چیئرمین یا منیجنگ ڈائریکٹر کا کوئی بیان بھی شامل نہیں تھا، اور خبر تیار کرنے کے وقت کمپنی کی طرف سے کوئی الگ اعلان دستیاب نہیں تھا۔

یہ کمپنی کا 75واں سالانہ اجلاس عام تھا، جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کام کرنے والے ادارے کے لیے ایک سنگ میل ہے۔

منظم توانائی کمپنیوں کے منافعوں کا اعلان چھوٹے حصہ داروں کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی سرمایہ کار بھی قریب سے دیکھتے ہیں، کیونکہ یہ ادائیگیاں اسی فورم پر منظور ہوتی ہیں جہاں سال کے گوشوارے باقاعدہ طور پر منظور کیے جاتے ہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔