مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

غلام علی بلتی ثقافت کے زندہ خزانہ قرار

لوک سجگ کی رپورٹ میں گلگت بلتستان کے بزرگ کو بلتی روایات کا محافظ بتایا گیا، تاہم مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

آزاد پاکستانی ادارے لوک سجگ نے گلگت بلتستان کی وادیوں سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ بزرگ غلام علی کو بلتی ثقافتی روایات کا محافظ قرار دیتے ہوئے پروفائل شائع کیا ہے۔ 25 ستمبر 2026 کو فائل کی گئی رپورٹ کی سرخی میں غلام علی کو 'بلتی ثقافت کا زندہ خزانہ' کہا گیا ہے، اور اسٹینڈ فرسٹ میں بھی یہی جملہ دہرایا گیا ہے۔ رپورٹ کی باڈی سنڈیکیشن لنک سے حاصل نہیں کی جا سکی، اس لیے سکردو ٹائمز غلام علی کی زندگی، ان کے گاؤں یا ان مخصوص روایات کے بارے میں مزید تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا جو وہ محفوظ کر رہے ہیں۔

بلتی ثقافت کا مرکز بلتستان ڈویژن ہے جس میں سکردو، شگر، کھرمنگ اور گانچھے کے اضلاع شامل ہیں۔ بلتی زبان تبتی خاندان کا حصہ ہے اور ان وادیوں میں بولی جاتی ہے، جس کی اپنی شفاہی شاعری اور لوک موسیقی کی روایات ہیں۔ لوک سجگ نے اس سے قبل گلگت بلتستان میں سماجی اور ثقافتی مسائل کی کوریج کی ہے۔ غلام علی کی یہ پروفائل خطے کی ثقافتی شخصیات کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

اگر ادارہ غلام علی کے بارے میں مزید تفصیلات شائع کرتا ہے یا مکمل پروفائل دستیاب ہوتی ہے تو یہ رپورٹ اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

سیاستگلگت بلتستان

امیر مقام کا گلگت بلتستان کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد، ترقی اور سیاحت پر توجہ کا عزم

وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان نے خطے کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد دی اور ترقی و سیاحت پر توجہ جاری رکھنے کا کہا۔

ثقافتگلگت بلتستان

گلگت بلتستان کا 80 واں یومِ آزادی اتوار کو، مرکزی تقریب گلگت میں

ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب گلگت کے آرمی ہیلی پیڈ پر ہوگی، جس میں 1947 کی تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

بریکنگسلامتیگلگت بلتستان

سکردو میں چار افراد کا قتل، پولیس کو غیرت کے نام پر قتل کا شبہ

پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ہانیہ کے والد، بھائیوں اور ماموں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ترقیگلگت بلتستان

ڈیم منصوبوں کی لاگت میں 1.9 ٹریلین روپے کا اضافہ، اسمبلی کو بتایا گیا

وزارت آبی وسائل نے اضافے کی وجہ زر مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو قرار دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیمنٹ، ڈیزل اور سٹیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔