پی ٹی آئی نے 'لاپتہ' جنید اکبر خان کو خیبر پختونخوا صدر برقرار رکھا
بیرسٹر گوہر علی خان کی شیئر کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سینیٹر نور الحق قادری جنید اکبر کی غیر موجودگی میں صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے، مزید احکامات تک تنظیمی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں

پاکستان تحریک انصاف نے جنید اکبر خان کو خیبر پختونخوا کا صدر برقرار رکھتے ہوئے صوبائی تنظیمی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد سے ان کی عوامی سطح پر موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے ایکس پر شیئر کی گئی نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی چیپٹر جنید اکبر کی صدارت میں کام جاری رکھے گا۔ صوبائی سینئر نائب صدر سینیٹر نور الحق قادری ان کی غیر موجودگی میں صوبائی کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور پارٹی آئین کے مطابق یہ ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اگر جنید اکبر اور نور الحق قادری دونوں دستیاب نہ ہوں تو صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان اجلاسوں کی صدارت کریں گے۔ انہیں صوبائی تنظیم کی دیگر سطحوں کے اجلاس بلانے اور ان کی صدارت کا اختیار بھی دیا گیا ہے اور وہ انتظام، رابطہ کاری اور نگرانی کے امور دیکھیں گے تاکہ پارٹی کی پالیسیوں اور فیصلوں پر عمل درآمد ہو سکے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ مزید احکامات تک تنظیمی ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، جیو نیوز نے رپورٹ کیا۔
گیارہ اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وفاقی کابینہ کی سفارش پر آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد سے جنید اکبر عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ انہیں دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ حراست میں لیا گیا ہے، تاہم حکام نے ان کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔ پشاور ہائی کورٹ نے ان کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔
وفاقی حکومت نے اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشت گردی میں پی ٹی آئی کی زیرقیادت صوبائی حکومت کے ناکافی تعاون کا حوالہ دیا۔ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، ان کی کابینہ اور مشیران عہدوں سے فارغ ہو گئے اور انتظامی اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے۔ پی ٹی آئی نے حکومت کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے ان اقدامات کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔
پارلیمنٹ نے بھی ان اقدامات کی توثیق کی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے 14 اکتوبر کو حمایت کی اور اگلے روز مشترکہ اجلاس نے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران 214 ووٹوں کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے قرارداد منظور کی۔ اس کے بعد وفاقی حکومت نے 11 رکنی مشاورتی کونسل اور دہشت گردی سے متاثر 12 اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا، اور 17 اکتوبر کو جرگوں کے مشورے کے بعد ان اضلاع پر مشتمل علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کے 48 ارکان مقرر کیے۔
ہفتے کے روز جاری ہونے والا نوٹیفکیشن پارٹی کے اندر صوبائی قیادت پر عوامی اختلاف کے بعد سامنے آیا۔ جیو نیوز کے مطابق سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے الزام لگایا کہ 'غیر جمہوری فیصلہ ساز' اندرونی اتفاق رائے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور انہوں نے اس بیان کا حوالہ دیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 68 ارکان پارٹی کے بانی عمران خان یا پالیٹیکل کمیٹی کی منظوری کے بغیر نیا صوبائی صدر اور اگلے وزیراعلیٰ کا امیدوار اعلان کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے انہیں چیلنج کیا کہ وہ الزام لگانے والوں کی نشاندہی کریں اور کہا: 'یہ پارٹی عمران خان کی ہے، ہمیں کسی سے وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں۔'
ڈیلی کے ٹو کے مطابق 20 ستمبر کو پشاور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جنید اکبر نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اسلام آباد مارچ کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے، اور کہا تھا کہ 'ہم اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے'۔
ویڈیو

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔