پی ٹی آئی کا دعویٰ: سہیل آفریدی اب بھی کے پی کے وزیراعلیٰ ہیں
پارٹی کی مرکزی سیکرٹریٹ کے نوٹیفکیشن میں اراکین کو وزیراعلیٰ کی تبدیلی پر بات کرنے سے روکا گیا ہے، جبکہ آفریدی 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے منظر عام پر نہیں آئے۔

پاکستان تحریک انصاف نے جمعرات کو کہا ہے کہ سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں، اور اس سلسلے میں پارٹی کی مرکزی سیکرٹریٹ سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کا مقصد ڈان کے مطابق ”وضاحت اور تاکید“ تھا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق پارٹی نے اس امکان کو بھی رد کیا کہ اس عہدے کے لیے کسی متبادل امیدوار پر غور کیا جائے گا۔ ڈنیا نیوز کے مطابق نوٹیفکیشن میں پارٹی اراکین کو صوبائی وزیراعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق گفتگو کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی 11 اکتوبر کو وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ اسی روز ایک وفاقی وزیر نے تصدیق کی تھی کہ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بعض اراکین حفاظتی تحویل میں ہیں۔
دونوں رپورٹس میں نہ وفاقی وزیر کا نام بتایا گیا، نہ یہ واضح کیا گیا کہ آفریدی کو کہاں رکھا گیا ہے، اور نہ ہی ان کی قانونی حیثیت یا تحویل کی شرائط کا ذکر کیا گیا۔ کسی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ پارٹی کے نوٹیفکیشن میں آفریدی کے ٹھکانے یا صوبے میں ان کی واپسی کے وقت کا کوئی حوالہ ہے، اور نہ ہی کسی رپورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے اس بیان پر ردعمل درج ہے۔
ڈان کے مطابق پارٹی کی جانب سے آفریدی کی حمایت کے اس اعادے کے پس منظر میں پارٹی کے اندر اس انتظام کے حوالے سے شکوک پائے جاتے ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن پارٹی کی صوبائی قیادت کے بجائے اس کی مرکزی سیکرٹریٹ نے جاری کیا، جو پارٹی کا مرکزی تنظیمی دفتر ہے۔
گورنر راج کے تحت صوبے کی ایگزیکٹو اتھارٹی گورنر کے پاس چلی جاتی ہے اور منتخب صوبائی حکومت معطل ہو جاتی ہے، جس سے وزیراعلیٰ کے پاس یہ عہدہ برقرار رہنے کے باوجود اختیارات نہیں رہتے۔
یہ پارٹی کا سب سے واضح عوامی موقف ہے جو گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی قیادت کی حیثیت پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اس سے یہ سوال حل نہیں ہوتا کہ صوبے کا روزمرہ انتظامی امور کون چلا رہا ہے، جس کا ذکر دونوں رپورٹس میں نہیں ہے۔
خیبر پختونخوا پی ٹی آئی کا سب سے بڑا گڑھ ہے اور وفاق کی کارروائی سے قبل یہی واحد صوبہ تھا جس پر پارٹی کا مکمل کنٹرول تھا۔ صوبائی وزیراعلیٰ کی حیثیت کا معاملہ پشاور سے آگے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے طے ہوگا کہ پارٹی کا صوبائی تنظیمی ڈھانچہ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اس کے اراکین آئندہ مہینوں میں کیسے کام کریں گے۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔