پنجاب اسمبلی میں میڈیکل یونیورسٹیوں پر وائس چانسلرز کے اختیارات کی تجویز
گورنر پنجاب نے 20 اکتوبر 2026 کو یہ آرڈیننس 90 دن کے لیے منظور کیا، جس کے تحت سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے ٹیچنگ ہسپتال اور ملحقہ کالجز وائس چانسلرز کے انتظامی کنٹرول میں آ جائیں گے۔

پنجاب کی سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر چیف ایگزیکٹو اور چیف اکیڈمک آفیسر کے اختیارات کے مالک ہوں گے اور یونیورسٹی کے ساتھ ملحقہ کالجز اور ٹیچنگ ہسپتالوں کا انتظامی کنٹرول بھی ان کے پاس ہوگا۔ یہ تجویز پنجاب اسمبلی کے سامنے رکھے گئے آرڈیننس میں شامل ہے۔
پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز (دوسری ترمیمی) آرڈیننس 2026 پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اسے اعلیٰ تعلیم کی قائمہ کمیٹی کو مزید غور کے لیے بھجوا دیا گیا۔ پروپاکستانی کے مطابق پنجاب کے گورنر نے 20 اکتوبر 2026 کو یہ آرڈیننس 90 دن کے لیے منظور کیا۔ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پر اسمبلی کی منظوری کے بعد ہی یہ قانون بنے گا۔
مسودے کے تحت وائس چانسلر یونیورسٹی کے افسروں، اساتذہ اور ملازمین کے علاوہ یونیورسٹی سے منسلک کالجوں، ٹیچنگ ہسپتالوں اور دیگر اداروں پر بھی انتظامی اختیار رکھیں گے۔ یہ آرڈیننس سات سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے متعلقہ قوانین میں ترمیم کرتا ہے۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کو دوبارہ اپنی یونیورسٹی کا آئینی کالج (کنسٹیٹیونٹ کالج) بنایا جائے گا۔ راولپنڈی میڈیکل کالج اور نشتر میڈیکل کالج ملتان کو ان کی متعلقہ یونیورسٹیوں کے آئینی کالجوں کی قانونی حیثیت دی جائے گی۔
دو کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی بنے گا اور پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی بنے گا۔
مسودے میں سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے فیصلہ ساز اداروں میں محکمہ خزانہ کی نمائندگی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ان اداروں میں سیکرٹری خزانہ یا اس مقصد کے لیے نامزد کم از کم ایڈیشنل سیکرٹری درجے کا افسر شامل ہوگا۔
پروپاکستانی نے ان تجاویز کو صوبے کی سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی نظام میں اہم تبدیلی قرار دیا۔ قائمہ کمیٹی آرڈیننس کا جائزہ لے کر ایوان کو رپورٹ دے گی، اور ایوان کی منظوری کے بعد یہ صوبائی اسمبلی کے ایکٹ میں تبدیل ہو جائے گا۔
رپورٹ میں پنجاب حکومت، محکمہ اعلیٰ تعلیم یا کسی یونیورسٹی کا کوئی بیان شامل نہیں تھا، اور بیان کردہ تبدیلیوں کے علاوہ آرڈیننس کا متن بھی شائع نہیں کیا گیا۔

پنجاب: دس لاکھ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا تین سالہ ہدف
وزیراعلیٰ مریم نواز نے نئے سینٹرز آف ایکسیلنس، ڈیجیٹل امتحانی نظام اور کلینر اکیڈمی کی منظوری دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ چار لاکھ نوجوان تربیت مکمل کر چکے ہیں

پنجاب کے وزیر محنت نے لاہور میں بیکری فیکٹری میں آگ کی رپورٹ طلب کی
اے پی پی نے آگ کو ہلاکت خیز بتایا لیکن ہلاکتوں کی تعداد، تاریخ یا مقام نہیں بتایا؛ اردو پوائنٹ نے ملتان روڈ پر پلاسٹک پیلیٹس فیکٹری میں الگ آگ کی خبر دی۔

لاہور میں سی ٹی ڈی ہیڈکوارٹر کی بیرونی دیوار سے ڈرون ٹکرا گیا
پولیس کے مطابق ڈرون رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے جلو مور کی طرف سے آیا، برآمد ہونے پر اس کے کیمرے اور بیٹری کی روشنیاں کام کر رہی تھیں، بعد ازاں بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اسے کلیئر قرار دیا۔
لاہور ایئر کوالٹی انڈیکس 420 کے ساتھ دنیا بھر کے بڑے شہروں میں پہلے نمبر پر
پنجاب حکومت کے مانیٹرنگ کے مطابق صبح 7 بجے لاہور کا اے کیو آئی 478 اور گوجرانوالہ 500 ریکارڈ کیا گیا، لاہور کے نو علاقوں میں شرح 500 تک پہنچی۔