مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر، برآمدات سے تقریباً 10.8 ارب زیادہ

ڈان نے وزارت خزانہ کی اگست 2026 کی معاشی رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ مالی سال 26 میں ترسیلات زر برآمدات سے کہیں زیادہ رہیں، جس سے معیشت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر منحصر دکھائی دیتی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر، برآمدات سے تقریباً 10.8 ارب زیادہ

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لُک (اگست 2026) کے مطابق پاکستان نے مالی سال 26 کا اختتام کم مالی خسارے، پرائمری سرپلس اور بہتر زرمبادلہ ذخائر پر کیا۔ ڈان نے 26 اکتوبر کو شائع ہونے والے اپنے ایک تجزیے میں انہی اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ معیشت کب تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات پر انحصار کرتی رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 26 میں مالی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد رہا، جبکہ پرائمری سرپلس، یعنی حکومت کے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں سے پہلے اس کا توازن، جی ڈی پی کے 2.9 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں کی نمو 4.98 فیصد رہی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی۔

ڈان نے ان بہتریوں کا موازنہ ملک کی زرمبادلہ آمدنی کے ذرائع سے کیا۔ مالی سال 26 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 41.6 ارب ڈالر رہیں جبکہ اجناس کی برآمدات سے 30.8 ارب ڈالر حاصل ہوئے، یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ملک کو اشیا کی برآمد سے تقریباً 10.8 ارب ڈالر زیادہ بھیجے۔ تحریر میں ترسیلات زر کا موازنہ خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے بھی کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے اعداد و شمار سرکاری ہیں، تاہم ڈان نے ان کی جو تشریح کی ہے وہ اس کی اپنی ہے۔ اخبار کے مطابق مالی و بیرونی محاذوں پر بہتری بنیادی طور پر ترسیلات زر پر ٹکی ہے، نہ کہ برآمدات یا ملک میں آنے والی سرمایہ کاری پر، اور اسی وجہ سے پاکستان کی بیرونی معاشی حیثیت ان ملکوں کی معیشتوں اور پالیسیوں سے متاثر ہو سکتی ہے جہاں پاکستانی کارکن کام کرتے ہیں۔

پرائمری سرپلس اور مجموعی خسارہ ایک ساتھ اسی لیے نظر آتے ہیں کہ حکومت کے قرضوں پر سود کی ادائیگیاں اس سرپلس سے زیادہ ہیں جو سود کی ادائیگی سے پہلے بنتا ہے۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ مالی سال 26 میں حکومتی آمدنی ریاست کے روزمرہ اخراجات پورے کرتی رہی، مگر قرضوں کی مکمل خدمت کے لیے کافی نہیں رہی۔

ڈان کی تحریر جس بات کو اٹھاتی ہے اور حل نہیں کرتی وہ اس انحصار کا دوام ہے۔ اپ ڈیٹ میں بتائی گئی زرمبادلہ آمدنی میں ترسیلات زر اب اجناس کی برآمدات سے آگے سب سے بڑا ذریعہ بن چکی ہیں، اور تحریر یہ پوچھتی ہے کہ یہ سلسلہ کب تک چل سکتا ہے، بجائے اس کے کہ کوئی پیش گوئی دے۔ اس میں مالی سال 27 کے لیے ترسیلات یا برآمدات کا کوئی تخمینہ نہیں دیا گیا اور وزارت خزانہ کی ماہانہ اپ ڈیٹ سے آگے کوئی نیا اعداد و شمار بھی پیش نہیں کیا گیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔