سینیٹ نے کشمیر بلیک ڈے پر متفقہ قرارداد منظور کر لی
وزیر کشمیر امور و گلگت بلتستان امیر مقام نے قرارداد پیش کی، جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارر اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے الگ الگ بیانات میں کشمیریوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اسلام آباد: سینیٹ نے پیر کے روز متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) کے عوام سے یکجہتی کا اظہار اور ان کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ یہ قرارداد 27 اکتوبر کو کشمیر بلیک ڈے کی مناسبت سے ایک روز قبل منظور ہوئی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ قرارداد ایوانِ بالا میں وزیر کشمیر امور و گلگت بلتستان امیر مقام نے پیش کی۔ اے پی پی کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ووٹنگ کے وقت کتنے ارکانِ سینیٹ موجود تھے، آیا قرارداد منظور کرنے سے قبل ایوان میں اس پر بحث ہوئی، یا اپوزیشن بنچوں نے اس حوالے سے کوئی بات کی۔
اے پی پی کے مطابق امیر مقام نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر بلیک ڈے ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں قرارداد کا مکمل متن نہیں دیا گیا، صرف یہ درج ہے کہ اس میں یکجہتی کے اظہار اور حقِ خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
اسی روز علیحدہ طور پر وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارر نے کشمیری عوام کی حمایت اور ان کے حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی مسلسل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا۔ یہ اطلاع بھی اے پی پی نے دی، تاہم اس میں یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ یہ بیان کب اور کہاں دیا گیا۔
ڈیلی انڈیپنڈنٹ کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی بلیک ڈے کے موقع پر کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس اخبار نے بھی ان کے بیان کا متن شائع نہیں کیا۔
امیر مقام کے پاس کشمیر امور کے ساتھ گلگت بلتستان کا قلمدان بھی ہے، یعنی وہ خطہ جس کا انتظامی صدر مقام گلگت ہے اور جہاں ان کی وزارت کے محکموں کے دفاتر سکردو میں بھی موجود ہیں۔
سینیٹ کی قرارداد ایوان کی رائے کا اظہار ہوتی ہے، بذاتِ خود یہ قانون نہیں بدلتی اور نہ حکومت کو کسی مخصوص اقدام کا پابند کرتی ہے۔ پیر کو منظور شدہ قرارداد کا متن ان رپورٹس میں موجود نہیں تھا جو اس اخبار کو دستیاب ہوئیں۔
کشمیر بلیک ڈے ہر سال 27 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اے پی پی اور ڈیلی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسلام آباد، مظفرآباد یا گلگت بلتستان میں اس روز کیا پروگرام مقرر ہے، اور نہ کسی تقریب کا شیڈول دستیاب ہوا۔
کسی رپورٹ میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ قومی اسمبلی بھی اسی نوعیت کی قرارداد پیش کرے گی یا حکومت اس موقع پر کسی بین الاقوامی فورم پر مسئلہ اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
امیر مقام کا گلگت بلتستان کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد، ترقی اور سیاحت پر توجہ کا عزم
وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان نے خطے کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد دی اور ترقی و سیاحت پر توجہ جاری رکھنے کا کہا۔

گلگت بلتستان کا 80 واں یومِ آزادی اتوار کو، مرکزی تقریب گلگت میں
ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب گلگت کے آرمی ہیلی پیڈ پر ہوگی، جس میں 1947 کی تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

سکردو میں چار افراد کا قتل، پولیس کو غیرت کے نام پر قتل کا شبہ
پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ہانیہ کے والد، بھائیوں اور ماموں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ڈیم منصوبوں کی لاگت میں 1.9 ٹریلین روپے کا اضافہ، اسمبلی کو بتایا گیا
وزارت آبی وسائل نے اضافے کی وجہ زر مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو قرار دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیمنٹ، ڈیزل اور سٹیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔