مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ڈی آئی خان: سترہ شوگر مل ملازمین چھٹے روز بھی بازیاب نہ ہو سکے

لواحقین اور علاقے کے رہائشیوں نے پیر کو انڈس ہائی وے بند کر کے گورنر فیصل کریم کنڈی سے بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
ڈی آئی خان: سترہ شوگر مل ملازمین چھٹے روز بھی بازیاب نہ ہو سکے

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں چشمہ شوگر مل کے 17 ملازمین اغوا کے چھٹے روز بھی بازیاب نہیں ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم تاحال کسی کی رہائی کی تصدیق نہیں ہوئی اور نہ کسی گروہ نے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پولیس کے مطابق ان ملازمین کو 21 اکتوبر کی شام تھانہ پروآ کی حدود میں اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد بس کے ذریعے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ اغوا شدگان میں سکیورٹی گارڈز اور درجہ چہارم کے ملازمین شامل ہیں۔

تھانہ پروآ کے محرر طارق بلوچ نے بتایا کہ مل کی بس روزانہ ڈیوٹی کے بعد ملازمین کو لے کر ڈی آئی خان شہر کی جانب روانہ ہوتی اور راستے میں مختلف دیہات میں انہیں اتارتی تھی۔ ان کے مطابق 21 اکتوبر کو بھی ملازمین اسی معمول کے مطابق گھروں کو جا رہے تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے بس روک کر انہیں اسلحے کے زور پر اپنے ساتھ لے گئے۔

طارق بلوچ کا کہنا تھا کہ اسی مقام پر ایک دوسری مسافر بس سے بھی کچھ افراد کو اغوا کیا گیا تھا، تاہم انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) ضیا الدین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مغویوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اغوا کاروں کی شناخت یا ان کے مطالبات کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

پیر کے روز مغوی ملازمین کی بازیابی میں تاخیر کے خلاف ان کے لواحقین اور علاقے کے رہائشیوں نے پروآ میں احتجاج کیا اور انڈس ہائی وے کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے مطالبہ کیا کہ وہ مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔

مغوی ملازمین میں شامل ایک شخص کے بھائی قاری محی الدین نے مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی دن گزرنے کے باوجود ان کے بھائی سمیت دیگر ملازمین کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان فیصل کریم کنڈی کا آبائی علاقہ ہے اور یہ واقعہ انہی کے علاقے میں پیش آیا ہے، اس لیے گورنر کو بازیابی کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس نوعیت کے واقعات صنعتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین میں خوف پیدا کرتے ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں تیز کی جائیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

چشمہ شوگر مل ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے رمک میں واقع ہے اور یہ 1988 میں قائم کی گئی تھی۔ مل میں روزانہ تقریباً 18 ہزار میٹرک ٹن گنے کی کرشنگ کی صلاحیت ہے اور یہاں ضلع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کام کرتے ہیں، جنہیں ہر شفٹ کے بعد مل کی بسیں ان کے گھروں کے قریب اتارتی ہیں۔

ویڈیو

یہ خبر ایک منٹ کی ویڈیو میں۔
سلامتیخیبر پختونخوا

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی

پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا

اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

سیاستخیبر پختونخوا

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع

وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

صحتخیبر پختونخوا

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے

کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔