سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔

کراچی: سندھ حکومت نے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو صوبے بھر کے بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی اور غیر قانونی بھرتیوں، بجٹ میں بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات کی جانچ کرے گی۔
ناصر حسین شاہ نے کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی اور کہا کہ یہ کمیٹی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر قائم کی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزیر نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کو بلدیاتی اداروں کے کام کرنے کے حوالے سے مختلف شکایات موصول ہوئی تھیں، جن میں یونین کونسلیں، ٹاؤن، میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی کونسلیں شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو کارپوریشنز، ضلعی کونسلوں، ٹاؤن اور یونین کونسلوں میں غیر قانونی بھرتیوں کے علاوہ بجٹ کی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات بھی پہنچیں۔ وزیر نے کہا کہ شکایات یونین کونسل کی سطح سے لے کر ضلعی کونسل تک پہنچیں اور چیئرمین نے وزیراعلیٰ کو فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی یونین کونسلوں، ٹاؤنز، میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی کونسلوں کا جائزہ لے گی اور اپنی حتمی سفارشات وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔ ناصر حسین شاہ کے علاوہ کمیٹی کے ارکان میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ڈاکٹر وسیم شمشاد، وزیراعلیٰ کے معائنہ ٹیم کے ممبر انور شیر، لوکل گورنمنٹ کمیشن کے ممبر عبدالرحیم سومرو اور میر حسین علی شامل ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے کی تمام کونسلوں، جن میں یونین کونسلیں، ٹاؤن، میونسپل کارپوریشنز اور ضلعی کونسلیں شامل ہیں، کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے گا۔ اس جائزے میں غیر قانونی بھرتیاں، بجٹ میں بے ضابطگیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔ اجلاس میں میونسپل کارپوریشنز، ضلعی کونسلوں، یونین کونسلوں اور ٹاؤنز کی سطح پر بجٹ آڈٹ کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اے آر وائی نیوز نے بتایا کہ تمام یونین کونسلوں کا مکمل مالیاتی آڈٹ کیا جائے گا۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد میونسپل کارپوریشنز، ٹاؤنز، یونین کونسلوں اور ضلعی کونسلوں کی کارکردگی بہتر بنانا، عوام کو سہولیات ان کے دروازے پر پہنچانا اور شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق ہے اور اس سے بلدیاتی اداروں کی صلاحیت مضبوط ہوگی اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی۔
دونوں رپورٹس میں کمیٹی کے کام کی کوئی مدت مقرر نہیں بتائی گئی۔ اے آر وائی نیوز نے اپنی رپورٹ کا عنوان کراچی کے بلدیاتی اداروں میں بدعنوانی سے متعلق رکھا، تاہم اس کی تفصیل میں بھی بزنس ریکارڈر کی طرح پورے صوبے کے جائزے کا ذکر ہے، نہ کہ صرف کراچی کا۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔
کراچی کی دو عدالتوں نے پارک اور اسکیم 33 کی زمین قبضے سے خالی کرنے کا حکم دیا
سندھ ہائیکورٹ نے پارک سے تجاوزات ہٹانے اور 20 جنوری تک رپورٹ دینے کا حکم دیا، جبکہ ملیر کی عدالت نے اسکیم 33 کی آٹھ ایکڑ زمین سات روز میں خالی کرانے کی ہدایت کی۔