سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے وکلاء، جوڈیشل افسران اور عدالتی عملے کو سات دن کی مہلت دی ہے کہ وہ اپنی نجی گاڑیوں سے غیر مجاز نمبر پلیٹیں اور سرکاری نشانات ہٹا دیں، اور خبردار کیا ہے کہ ہدایت پر عمل نہ کرنے والی گاڑیوں کو عدالتوں کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
سندھ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے مطابق یہ ہدایت جمعہ کے روز جاری کی گئی اور یہ وکلاء، جوڈیشل افسران، عدالتی عملے اور دیگر متعلقہ افراد کی نجی گاڑیوں پر لاگو ہوتی ہے۔ پروپاکستانی نے ممنوعہ اشیاء کی مکمل فہرست اور استثنیٰ کی شق شائع کی، جبکہ دی نیوز نے خبر دی کہ جوڈیشل افسران اور وکلاء کو اپنی نجی گاڑیوں سے ہائی کورٹ کے سرکاری نشانات ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہدایت کے مطابق نجی گاڑیوں سے سبز نمبر پلیٹیں، سرکاری لوگو اور مونوگرام، نیلی روشنیاں، اسٹیکرز، بیجز، پرچم، تحریریں، فلیشرز اور گھومنے والی لائٹیں اتارنی ہوں گی۔ جعلی سرکاری نمبر پلیٹیں اور جعلی اے ایف آر پلیٹیں بھی اس حکم میں شامل ہیں۔
رجسٹرار نے کہا کہ نجی گاڑیوں پر سرکاری نشانات اور غیر قانونی نمبر پلیٹوں کا استعمال سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اس سے یہ غلط تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گاڑی کے مالک کو سرکاری مراعات حاصل ہیں۔
سندھ لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل رولز 2017 کے رول 76(ایف) کے تحت آنے والی گاڑیوں کو اس ہدایت سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ چیف جسٹس نے عدالتی عملے، جوڈیشل افسران اور وکلاء کو ہدایت دی کہ وہ اپنی گاڑیوں کے حوالے سے قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔
سات دن کی یہ مہلت جمعہ کو ہدایت جاری ہونے سے شمار ہوگی۔ اس کے بعد بھی ممنوعہ اشیاء رکھنے والی گاڑیوں کو سندھ ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی و سیشن عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکم کی خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے خلاف قانون کے مطابق پولیس کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
رجسٹرار کے بیان میں ہدایت کے دائرے میں آنے والی گاڑیوں اور نشانات کا ذکر ہے۔ بیان میں کسی فرد یا کسی مخصوص گاڑی کا نام نہیں دیا گیا، اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ عدالتوں کے دروازوں پر جانچ کیسے کی جائے گی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔
کراچی کی دو عدالتوں نے پارک اور اسکیم 33 کی زمین قبضے سے خالی کرنے کا حکم دیا
سندھ ہائیکورٹ نے پارک سے تجاوزات ہٹانے اور 20 جنوری تک رپورٹ دینے کا حکم دیا، جبکہ ملیر کی عدالت نے اسکیم 33 کی آٹھ ایکڑ زمین سات روز میں خالی کرانے کی ہدایت کی۔