پاکستان اور ایران کی ڈی پورٹیشن مہم، چھ ملین افغان واپس لوٹے
جوزجان کے مزدور غلام سخی برات کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کی آمد کے بعد مقامی لوگوں کے لیے کام کم ہو گیا ہے اور لوگ بھوکے رہ رہے ہیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سال سے کچھ زیادہ عرصے میں ایران اور پاکستان سے چھ ملین سے زائد افغان اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، جبکہ دونوں ہمسایہ ملکوں نے کئی عشروں تک تنازعے سے بھاگنے والوں کو پناہ دینے کے بعد ڈی پورٹیشن مہم شروع کر دی ہے۔
واپس آنے والوں کی اس بڑی تعداد نے افغانستان کے اندر روزگار اور رہائش پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ ملک کے شمال میں مزدور سڑک کے کنارے کام کی تلاش میں جمع ہوئے، اور واپس آنے والے بھی دستیاب مواقع کے لیے قطار میں شامل ہو گئے۔
جوزجان صوبے کے دارالحکومت شبرغان میں سات افراد کے کفیل غلام سخی برات نے کہا کہ واپس آنے والوں کی آمد سے مقامی لیبر مارکیٹ بدل گئی ہے۔ ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ”جب سے واپس آنے والے آئے ہیں، مقامی مزدوروں کے لیے کام کم ہو گیا ہے۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”لوگ بھوکے رہ رہے ہیں“۔
ڈان نے لکھا کہ مرد دن بھر کے کام پر رکھے جانے کی امید میں سڑک کے کنارے جمع ہوتے ہیں، اور نئے آنے والے ہر نوکری کے لیے مقابلہ کرنے والوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ منظر شمالی افغانستان کا بتایا گیا، تاہم ضلع کا نام نہیں دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ چھ ملین میں سے کتنے افغان پاکستان سے آئے اور کتنے ایران سے، نہ ہی صرف پاکستان کی جانب سے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی الگ تعداد بتائی گئی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ موجودہ ڈی پورٹیشن مہم کب شروع ہوئی، اس سے کتنے لوگ متاثر ہوئے، یا پاکستان میں اب کتنے افغان موجود ہیں۔
عرب نیوز پاکستان نے بھی یہی خبر ”افغان روزگار اور گھروں کے لیے مقابلے میں، لاکھوں ایران اور پاکستان سے واپس“ کے عنوان سے شائع کی، تاہم کوئی اضافی اعداد و شمار یا اقتباس فراہم نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران اور پاکستان دونوں نے کئی عشروں تک افغان مہاجرین کو پناہ دی اور دونوں نے حالیہ برسوں میں انہیں واپس بھیجنے کی مہم شروع کی۔ اس کا مجموعی اثر افغان لیبر مارکیٹ میں نظر آتا ہے، جہاں بغیر بچت کے واپس آئے خاندان مقامی مزدوروں کے ساتھ روزانہ کے کام اور کرائے کے کمروں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
ڈان کے مطابق برات کا بیان ایسے متعدد بیانات میں سے ایک ہے جن میں واپس آنے والے اجرتوں اور رہائش پر بڑھتے دباؤ کا ذکر کرتے ہیں؛ یہ کسی سرکاری اندازے کے بجائے لوگوں کے اپنے تجربات ہیں۔ رپورٹ میں کسی افغان یا پاکستانی حکومتی اہلکار کا حوالہ موجود نہیں ہے کہ رواں سال اب تک کتنے لوگ سرحد پار واپس آئے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔