ہنگو میں فائرنگ سے چھ فوجی شہید، آٹھ حملہ آور ہلاک: آئی ایس پی آر
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو فوجی افسر بھی شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں جھڑپ کے دوران چھ فوجی اہلکار جن میں دو فوجی افسر شامل ہیں شہید ہوئے جبکہ آٹھ حملہ آور ہلاک ہوئے۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کو بلوچستان پلس نے شائع کیا۔ اس سے قبل آرگنائزر نے بھی واقعے کی اطلاع دی تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والوں میں دو فوجی افسر شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے دوران آٹھ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ فوج نے شہید اہلکاروں کے نام یا عہدے جاری نہیں کیے، اور نہ ہی جھڑپ کی تاریخ یا ہنگو کے اندر مقام واضح کیا گیا۔
بھارتی میڈیا ادارے آرگنائزر نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ حملہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کیا۔ اس کی سرخی میں کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں ٹی ٹی پی حملے میں دو فوجی افسران سمیت چھ فوجی ہلاک ہوئے۔ آرگنائزر کی مکمل رپورٹ دستیاب نہیں تھی، صرف سرخی اور تعارفی سطر ہی مل سکی۔ بلوچستان پلس میں شائع آئی ایس پی آر بیان میں کسی گروہ کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کے دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔
ضلع ہنگو خیبر پختونخوا کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں حالیہ برسوں میں سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملے ہوتے رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ضلع اور اس کے گرد و نواح میں مسلح گروہوں کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات، جیسے زخمیوں کی تعداد، برآمد ہونے والا اسلحہ یا گرفتار افراد کے بارے میں سرکاری ذرائع سے فوری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔
یہ رپورٹ پیر کو سامنے آئی، لیکن جھڑپ کی تاریخ فوری طور پر واضح نہیں تھی۔ فوج نے اس واقعے کے بارے میں کوئی علیحدہ بیان جاری نہیں کیا۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے نام یا اضافی تفصیلات جاری ہونے پر سکردو ٹائمز اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
ویڈیو

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔