سکردو کا شخص اپنے بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے الزام میں گرفتار
این سی سی آئی اے کے مطابق ویڈیوز ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کریپٹو کرنسی کے ذریعے فروخت کی جاتی تھیں، اور ملتان و جنوبی پنجاب میں مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

اسلام آباد: قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے سکردو کے ایک شخص کو اس الزام میں گرفتار کیا ہے کہ اس نے اپنے ہی کم عمر بچوں کی نازیبا ویڈیوز تیار کر کے فروخت کیں۔ ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد شعیب خان نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا کیس ہے جس میں کسی باپ کو اپنے ہی نابالغ بچوں کے خلاف ایسے جرم میں ملوث پایا گیا۔ ان کے مطابق ویڈیوز ٹیلی گرام کے خفیہ گروپس میں کریپٹو کرنسی کے ذریعے خریدی اور بیچی جاتی تھیں، اور ان ویڈیوز کے گرد ایک پورا گروہ تشکیل پا گیا تھا۔
بچوں کی عمر کے بارے میں رپورٹس میں اختلاف ہے۔ ٹیک جوس کے مطابق بچوں کی عمریں چار اور پانچ سال تھیں، جبکہ جیو نیوز نے پانچ اور چھ سال بتایا ہے۔
ٹیک جوس کی رپورٹ کے مطابق شعیب خان نے کہا کہ گرفتار شخص مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا سرغنہ تھا اور اسے بین الاقوامی تعاون سے پکڑا گیا۔ تفتیش کے دوران جانوروں کے ساتھ زیادتی پر مبنی ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔ اہم سراغ اسلام آباد، ملتان اور جنوبی پنجاب سے ملے اور نیٹ ورک کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
دوسرے کیس میں ایجنسی نے ایک الگ نیٹ ورک کے چار ارکان کو گرفتار کیا جن پر الزام ہے کہ وہ انسٹاگرام پر چھ سے چودہ سال کے بچوں سے دوستی کر کے ان سے نازیبا ویڈیوز بنواتے اور پھر وہ بیرون ملک فروخت کرتے تھے۔ ایک موبائل فون سے ایسی تقریباً 60 ویڈیوز برآمد ہوئیں۔
تیسرے کیس میں این سی سی آئی اے نے کراچی کی ایک نابالغ لڑکی کی خودکشی کی کوشش کے چند گھنٹوں کے اندر اسلام آباد سے مرکزی ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کیا۔ لڑکی نے مبینہ طور پر دو سے تین سال تک ہراسانی اور بلیک میلنگ کے بعد خودکشی کی کوشش کی۔ ایجنسی نے لڑکی کے خاندان کے تعاون سے کارروائی کی۔
شعیب خان نے کہا کہ ایسے والدین کے خلاف بھی کارروائی ہو گی جو اپنے بچوں کے خلاف جرائم کا علم ہونے کے باوجود رپورٹ نہیں کرتے۔ انہوں نے یونیورسٹیز اور اسکولوں میں آگاہی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کا آغاز اسلام آباد سے ہو گا اور بعد میں ملک بھر میں پھیلایا جائے گا، تاکہ والدین کو سکھایا جائے کہ بچے موبائل پر کیا دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ون ٹائم پاس ورڈ، پن اور بینک تفصیلات کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی اور خبردار کیا کہ جعلی بینکنگ ویب سائٹس بنائی گئی ہیں جو اصل جیسی دکھتی ہیں۔
علیحدہ طور پر ایجنسی نے کراچی کی تین کمپنیوں کا پردہ فاش کیا جن پر الزام ہے کہ وہ امریکہ اور جرمنی کے گاہکوں کے لیے بچوں سے متحرک نازیبا مواد تیار کرتی تھیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر کے مطابق 42 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں سے 13 کو باقاعدہ گرفتار کر کے عدالت سے ریمانڈ پر بھیجا گیا، اور تینوں کمپنیوں کے پیچھے مبینہ طور پر ایک ہی شخص تھا۔ ڈائریکٹر طارق نواز نے جیو نیوز کو بتایا کہ کمپنیاں مواد فروخت کرنے کے بعد گاہکوں کو بلیک میل بھی کرتی تھیں۔
شعیب خان نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد میں کال سینٹرز کے حوالے سے سات ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 13,000 سے 14,000 آلات برآمد ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان میں گرفتار چینی شہری پاکستانی قانون کے تحت سزا کاٹیں گے، جس کے بعد ان کے ویزے منسوخ کر کے انہیں ڈی پورٹ کیا جائے گا۔
این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے علیحدہ طور پر افسران کو ہدایت کی کہ شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے، اور جھوٹی خبریں، ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈہ اور خوف و ہراس پھیلانے والے اکاؤنٹس کی سخت نگرانی کی جائے۔
سائبر کرائم کے متاثرین این سی سی آئی اے کی ہیلپ لائن 1799 پر شکایت درج کروا سکتے ہیں جو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے۔
ویڈیو
امیر مقام کا گلگت بلتستان کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد، ترقی اور سیاحت پر توجہ کا عزم
وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان نے خطے کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد دی اور ترقی و سیاحت پر توجہ جاری رکھنے کا کہا۔

گلگت بلتستان کا 80 واں یومِ آزادی اتوار کو، مرکزی تقریب گلگت میں
ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب گلگت کے آرمی ہیلی پیڈ پر ہوگی، جس میں 1947 کی تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

سکردو میں چار افراد کا قتل، پولیس کو غیرت کے نام پر قتل کا شبہ
پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ہانیہ کے والد، بھائیوں اور ماموں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ڈیم منصوبوں کی لاگت میں 1.9 ٹریلین روپے کا اضافہ، اسمبلی کو بتایا گیا
وزارت آبی وسائل نے اضافے کی وجہ زر مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو قرار دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیمنٹ، ڈیزل اور سٹیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔