گلگت بلتستان میں برفانی چیتوں کو بڑھتے خطرات، ماہرین
الگ الگ رپورٹوں میں قراقرم میں ہمالیائی آئبیکس پر دباؤ اور سخت قوانین کی تجاویز کا ذکر ہے، تاہم کسی سرکاری آبادی کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔
گلگت بلتستان میں برفانی چیتے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بات ڈان کی ایک رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے کہی گئی ہے، جس میں خطے میں اس نوع کے لیے خطرات میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے۔
اخبار کی رپورٹ، جو ”سنو لیپرڈز فیس گروئنگ تھریٹس اِن گلگت بلتستان: ایکسپرٹس“ کے عنوان سے شائع ہوئی، میں دستیاب متن کے مطابق یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ماہرین کن مخصوص خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ گلگت بلتستان میں کتنے برفانی چیتے باقی ہیں۔
ادھر بایو انجینئر نامی اشاعتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق قراقرم میں کیمرو ٹریپ کے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ ہمالیائی آئبیکس، جو برفانی چیتے کا اہم شکار ہے، ناہموار وادیوں کے ایسے علاقوں کو ترجیح دیتے ہیں جہاں وہ زیادہ محفوظ رہتے ہیں، جبکہ برفانی چیتے اس شکار کے پیچھے اپنے آمدورفت کے علاقے بدلتے رہتے ہیں۔ ادارے کے بیان کے مطابق مطالعے میں یہ دیکھا گیا کہ آئبیکس چرنے کی دستیابی اور شکار ہونے کے خدشے میں کیسے توازن رکھتے ہیں۔
چترال ٹوڈے نے خبر دی کہ برفانی چیتے کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اشاعتی ادارے نے مجوزہ قانونی تبدیلیوں کی تفصیل یا یہ نہیں بتایا کہ یہ تجویز کس نے دی۔
بلوم پاکستان نے رپورٹ کیا کہ پاکستان کے برفانی چیتوں کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔ اس رپورٹ میں آبادی کے اعداد و شمار یا اس تشخیص کا ذریعہ نہیں بتایا گیا۔
ان رپورٹوں میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے کس علاقے میں ماہرین کی تشویش مرکوز ہے، آیا یہ نتائج صوبائی محکمہ جنگلی حیات کو بھیجے گئے ہیں، یا تحفظ سے وابستہ حلقے اب کون سے اقدامات چاہتے ہیں۔ اس اخبار کو دستیاب رپورٹوں میں سے کسی میں بھی گلگت بلتستان میں برفانی چیتے کی صورتحال پر کوئی سرکاری بیان شامل نہیں ملا، اور محکمہ جنگلی حیات کا کوئی بیان بھی ان رپورٹوں میں موجود نہیں۔
برفانی چیتے کا تعلق شمالی پاکستان کے بلند پہاڑی سلسلوں سے ہے، اور قراقرم کا مطالعہ اس بحث کو اسی خطے سے جوڑتا ہے جہاں آئبیکس اور دیگر شکار رہتے ہیں۔ کیمرو ٹریپ مطالعے کا مقصد یہی سوال جاننا تھا کہ آئبیکس اس خطے کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور برفانی چیتے اس کے جواب میں کس طرح حرکت کرتے ہیں۔
اس اخبار کو ڈان کے حوالے سے بتائے گئے ماہرین یا قراقرم مطالعے کے محققین سے ان کے نتائج کی تصدیق کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا۔ مزید تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔
امیر مقام کا گلگت بلتستان کو 79ویں یومِ آزادی کی مبارکباد، ترقی اور سیاحت پر توجہ کا عزم
وفاقی وزیر برائے کشمیر امور و گلگت بلتستان نے خطے کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر مبارکباد دی اور ترقی و سیاحت پر توجہ جاری رکھنے کا کہا۔

گلگت بلتستان کا 80 واں یومِ آزادی اتوار کو، مرکزی تقریب گلگت میں
ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب گلگت کے آرمی ہیلی پیڈ پر ہوگی، جس میں 1947 کی تحریکِ آزادی کے ہیروز کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔

سکردو میں چار افراد کا قتل، پولیس کو غیرت کے نام پر قتل کا شبہ
پولیس کے مطابق محمد اسلم، ان کی اہلیہ ہانیہ اسلم اور دو بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا جبکہ ایف آئی آر میں ہانیہ کے والد، بھائیوں اور ماموں کو نامزد کیا گیا ہے۔

ڈیم منصوبوں کی لاگت میں 1.9 ٹریلین روپے کا اضافہ، اسمبلی کو بتایا گیا
وزارت آبی وسائل نے اضافے کی وجہ زر مبادلہ کی شرح میں تبدیلی کو قرار دیا اور کہا کہ نظرثانی شدہ پی سی ون جمع کر دیا گیا ہے، جبکہ سیمنٹ، ڈیزل اور سٹیل کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔