سپریم کورٹ نے 2016 کے قتل کے مجرم کو شواہد میں تضاد پر بری کر دیا
عدالت نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور چشم دید گواہوں کے بیانات میں مطابقت نہیں، اور شال کو فرانزک جانچ کے لیے نہ بھیجنا بھی سوالیہ نکات میں شامل رہا۔

سپریم کورٹ نے ایک ملزم کو بری کر دیا ہے جو 2016 میں فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں میں 25 سالہ خاتون کے قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے اور ہائی کورٹ کے اس فیصلے، جس نے سزا برقرار رکھی تھی، دونوں کو کالعدم قرار دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور منٹ مرر کے مطابق عدالت نے استغاثہ کے شواہد اور پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تضاد کی بنا پر ملزم کو شک کا فائدہ دیا۔ دونوں ذرائع نے فیصلے کے مسودے سے اقتباس کیا ہے۔ اے پی پی نے ملزم کا نام منور حسین لکھا ہے جبکہ منٹ مرر نے بھی یہی نام استعمال کیا ہے۔
خاتون کی شناخت سائمہ کے نام سے ہوئی جو 2016 میں قتل ہوئیں۔ ٹرائل کورٹ نے حسین کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور ہائی کورٹ نے اسے برقرار رکھا تھا۔ کسی بھی رپورٹ میں اس گاؤں کا نام نہیں بتایا گیا جہاں یہ قتل ہوا، اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کس تاریخ کو سنایا۔
منٹ مرر کے مطابق عدالت نے استغاثہ کے بیان میں تضادات نوٹ کیے۔ پہلی اطلاع (ایف آئی آر) میں ایک ہی ملزم درج تھا جبکہ موقع پر تین چشم دید گواہوں کی موجودگی بتائی گئی تھی۔
عدالت نے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ خاتون کو رسی سے بستر سے باندھا گیا تھا، اور کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں اس کے مطابق نشانات کی تصدیق نہیں ہوتی۔ جسٹس ملک شہزاد احمد نے پوچھا کہ چشم دید گواہوں نے قتل روکنے کے لیے مداخلت کیوں نہ کی، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے سوال کیا کہ مقدمے میں زیر بحث شال کو فرانزک جانچ کے لیے کیوں نہ بھیجا گیا۔
عدالت نے یہ بھی دیکھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ چشم دید گواہوں کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتی، اور مسودے کے مطابق اس رپورٹ کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔
اس بریت کا مطلب ہے کہ حسین کو اب ٹرائل کورٹ کی سنائی گئی عمر قید کی سزا نہیں کاٹنی پڑے گی۔ اے پی پی نے اسے شک کا فائدہ قرار دیا، یعنی یہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ کوئی جرم ہی وقوع پذیر نہیں ہوا۔
اس نوعیت کے فوجداری فیصلوں کو اس حوالے سے دیکھا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ چشم دید گواہوں کے بیانات اور طبی شہادت کو کس طرح تولتی ہے۔ اس مقدمے میں عدالت نے دونوں کے درمیان فرق کو اتنا اہم سمجھا کہ نچلی دو عدالتوں سے برقرار رہنے والی سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔
رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ استغاثہ کے پاس کوئی اپیل یا نظرثانی کا راستہ موجود ہے یا نہیں، اور نہ ہی یہ کہ عدالت نے اس تفتیش کے بارے میں کوئی ہدایت دی جس کے نتیجے میں یہ سزا ہوئی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔