مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

اقوام متحدہ کی کمیٹی میں پاکستان کی قرارداد منظور، صرف انڈیا اور اسرائیل نے مخالفت کی

فرسٹ کمیٹی نے علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق پاکستان اور بیلاروس کی قرارداد 180 ووٹوں سے منظور کی، امریکہ، چین اور روس نے بھی حمایت کی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
اقوام متحدہ کی کمیٹی میں پاکستان کی قرارداد منظور، صرف انڈیا اور اسرائیل نے مخالفت کی
تصویر: BBC Urdu

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی فرسٹ کمیٹی نے منگل کو علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق قرارداد 180 ووٹوں کے ساتھ منظور کر لی۔ بی بی سی اردو کے مطابق اس کے خلاف صرف انڈیا اور اسرائیل نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ، چین اور روس نے حمایت میں ووٹ ڈالا۔ کمیٹی کے کل 193 ارکان ہیں۔

یہ قرارداد پاکستان اور بیلاروس نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔ اردو پوائنٹ کے مطابق کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ تین قراردادیں بھاری اکثریت سے منظور کیں۔

اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکرٹری انمول شیر بیدی نے کمیٹی کو بتایا کہ انڈیا اس بات پر مکمل طور پر قائل نہیں کہ اس معاملے کو بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں آگے بڑھایا جائے، کیونکہ روایتی ہتھیاروں پر کنٹرول ایک عالمی مسئلہ ہے۔ انڈیا نے خاص طور پر اس تجویز پر تحفظات ظاہر کیے جس کے تحت اقوام متحدہ کے اسلحہ کمیشن کو ایسے اصول تیار کرنے کا کام سونپا جائے گا جو روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق علاقائی معاہدوں کا فریم ورک تشکیل دیں گے۔

بیدی نے کہا کہ کمیشن تین مرتبہ اتفاق رائے تک پہنچ چکا ہے: 1993 میں اختیار کردہ علاقائی تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما خطوط، 1999 میں اپنائے گئے روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول اور تخفیف اسلحہ سے متعلق رہنما خطوط، اور 2017 میں اپنائے گئے روایتی ہتھیاروں کے میدان میں اعتماد سازی کے عملی اقدامات۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک ایسے موضوع پر بحث کے دوسرے دور کی ضرورت کیوں ہے جس پر پہلے ہی تفصیل سے بات ہو چکی ہے، الّا یہ کہ مقصد اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے نظام کو مصروف رکھنا ہو۔

مسودے میں کہا گیا ہے کہ روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول کی کوششیں بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی میکانزم کے ذریعے آگے بڑھائی جانی چاہئیں، کیونکہ بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش کئی موجودہ خطرات پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی سے پیدا ہوتے ہیں۔ قرارداد میں ایسے معاہدوں کا مطالبہ کیا گیا ہے جن کا مقصد ہتھیاروں اور فوجی دستوں کی تعداد کم سے کم سطح پر رکھ کر علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے، اور اس میں بڑے ممالک اور زیادہ فوجی صلاحیت رکھنے والے ممالک پر خصوصی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق اس مسودے میں کوئی پابند علاقائی ہتھیاروں کی حد مقرر نہیں کی گئی، نہ انڈین ہتھیاروں کی خریداری پر پابندی ہے اور نہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی برابری کا کوئی طریقہ کار قائم کیا گیا ہے۔ روس نے 2025 میں اس قرارداد کے پچھلے ورژن کی حمایت کی تھی، اور اس بار اپنے ووٹ کے بارے میں کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔

پاکستان کی وزارت خارجہ نے ووٹ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ فرسٹ کمیٹی نے پاکستان کی تجاویز کو زبردست حمایت کے ساتھ منظور کیا، جو ہتھیاروں پر قابو پانے کی پاکستانی کوششوں کے لیے عالمی برادری کی حمایت ظاہر کرتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ’علاقائی اور ذیلی علاقائی سیاق و سباق میں اعتماد سازی کے اقدامات‘ کے عنوان سے قرارداد بغیر ووٹ کے منظور کی گئی جبکہ روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول والی قرارداد کو 180 ووٹ ملے۔ بیان میں کہا گیا کہ کئی دہائیوں سے ہم اس طرح کے ہتھیاروں کے معاملات میں اقوام متحدہ کی پیش قدمی کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے طاہر اندرابی نے ایکس پر لکھا کہ ہم فرسٹ کمیٹی میں پاکستان کی زیرقیادت تین قراردادوں کو ملنے والی وسیع حمایت سے خوش ہیں۔

رپورٹوں میں فرق

بی بی سی اردو نے ووٹ کی تقسیم کو نمایاں کیا اور بتایا کہ صرف انڈیا اور اسرائیل نے مخالفت کی، جبکہ اپنی زیادہ تر جگہ انڈیا کے موقف کی وضاحت کو دی اور فرسٹ سیکرٹری انمول شیر بیدی کے حوالے سے بتایا کہ نئی دہلی نے قرارداد کیوں مسترد کی۔ اردو پوائنٹ کی سرخی نے اسی ووٹ کو یوں پیش کیا کہ فرسٹ کمیٹی نے پاکستان کی پیش کردہ تین قراردادیں بھاری اکثریت سے منظور کیں۔ 1993، 1999 اور 2017 کے ان رہنما خطوط کی تفصیل اور یہ بات کہ روس نے 2025 میں قرارداد کے پچھلے ورژن کی حمایت کی تھی، صرف بی بی سی اردو کی رپورٹ میں موجود ہے۔

سیاست

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مطالبہ: طالبان خواتین پر پابندیاں ہٹائیں

کونسلر محمد جواد اجمل نے جنرل اسمبلی کے ڈائیلاگ میں کہا کہ سرحد پار دہشت گردی خطے کے استحکام کی راہ میں مرکزی رکاوٹ ہے اور کابل کو اپنے بین الاقوامی وعدے پورے کرنے چاہئیں۔

سیاستگلگت بلتستان

بھارت نے گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات پر پاکستان سے احتجاج درج کر لیا

بھارتی سرکاری نشریاتی ادارے ڈی ڈی نیوز کے مطابق احتجاج کی تاریخ، مقام اور سطح نہیں بتائی گئی، اور اسلام آباد کا کوئی ردعمل بھی سامنے نہیں آیا۔

معیشترپورٹوں میں فرق

ایٹسالات سے 800 ملین ڈالر کی وصولی کے لیے ثالثی پر غور

سینیٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایٹسالات کو نوٹس آف انٹینٹ بھیجنے سے پہلے اٹارنی جنرل کیس کی مضبوطی کا جائزہ لیں گے۔

ترقیرپورٹوں میں فرق

قومی اسمبلی کمیٹی: واپڈا سکیورٹی بل پھر مؤخر، کے-فور کی تاخیر کی تحقیقات

محمد ادریس کی زیرقیادت چار رکنی ذیلی کمیٹی یہ دیکھے گی کہ 171 ارب روپے کے کے-فور منصوبے کو تقریباً دو دہائیوں بعد بھی مکمل کیوں نہیں کیا جا سکا۔

سیاسترپورٹوں میں فرق

الیکشن اصلاحات کمیٹی کی تشکیل پر پی ٹی آئی نے اعتراض اٹھا دیا

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی سے پانچ ارکان کے نام طلب کیے، مگر پارٹی کا کہنا ہے کہ 15 سرکاری ارکان کے مقابلے میں پانچ اپوزیشن ارکان کے ساتھ توازن ممکن نہیں۔

معیشترپورٹوں میں فرق

قائمہ کمیٹی نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں کم از کم اجرت نافذ نہ ہونے پر سوال اٹھا دیا

وفاقی سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ چند روز میں بورڈ کی قرارداد منظور ہو جائے گی، جس کے بعد ہر اضافے پر دوبارہ منظوری کی ضرورت نہیں رہے گی۔

تعلیم

حکومت دو سال میں طلبہ کو پانچ لاکھ کرووم بکس دے گی

منٹ مرر کے مطابق پنجاب کو 181,090، اسلام آباد کو 100,000 اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کو 25,000، 25,000 ڈیوائسز ملیں گی، جبکہ رواں مالی سال 200,000 ڈیوائسز تقسیم کی جائیں گی۔

سیاست

سینیٹ کمیٹی کا وزیراعظم کے اقوام متحدہ دورے اور ایران امریکہ تنازعے پر بریفنگ کا مطالبہ

قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ نے ایچ ای سی، نادرا اور وزارت خارجہ کو اگلے اجلاس میں integrated ای اٹیسٹیشن نظام کا جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔