ایٹسالات سے 800 ملین ڈالر کی وصولی کے لیے ثالثی پر غور
سینیٹ کی مشترکہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایٹسالات کو نوٹس آف انٹینٹ بھیجنے سے پہلے اٹارنی جنرل کیس کی مضبوطی کا جائزہ لیں گے۔

وفاقی حکومت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے حصص کی 2005 میں ہونے والی فروخت کے بدلے اب تک وصول نہ ہونے والے تقریباً 800 ملین ڈالر کی واپسی کے لیے متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی ایٹسالات (اب ای اینڈ) کے خلاف بین الاقوامی ثالثی پر غور کر رہی ہے۔ یہ بات سینیٹ کی دو قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس میں منگل کو بتائی گئی۔
معلومات و مواصلات اور نجکاری کی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس پلوشہ خان اور ڈاکٹر افنان اللہ خان کی صدارت میں ہوا۔ ٹیک جوس کی رپورٹ کے مطابق نجکاری کی وزارت کی ایک بریفنگ دستاویز میں بتایا گیا کہ حکومت نے 2005 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول 2.59 ارب ڈالر میں ایٹسالات انٹرنیشنل پاکستان کو فروخت کیے تھے۔ اب تک 1.76 ارب ڈالر وصول ہوئے ہیں جبکہ تقریباً 800 ملین ڈالر باقی ہیں۔
بقایا رقم پی ٹی سی ایل کی جائیدادوں کی نئی انتظامیہ کو منتقلی سے مشروط تھی۔ بریفنگ کے مطابق 3,246 جائیدادوں میں سے 99 فیصد منتقل ہو چکی ہیں، 32 ابھی باقی ہیں، اور ایٹسالات نے اسی وجہ سے بقایا رقم روک رکھی ہے۔
وزارت نے کمیٹیوں کو بتایا کہ 2015 سے نجکاری کے بعد کے تنازعات کو کمیٹیوں اور ایٹسالات سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں مگر معاملہ طے نہیں پایا۔ جولائی 2026 میں وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں آئی ٹی اور قانون کی وزارتوں اور اٹارنی جنرل کے دفتر کے نمائندے شامل تھے۔ اس کمیٹی نے سفارش کی کہ سیل پرچیز ایگریمنٹ کے تحت بین الاقوامی ثالثی اختیار کی جائے تاکہ 800 ملین ڈالر، 2008 سے اب تک کی موقع کی لاگت اور ہرجانہ وصول کیا جا سکے۔
کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ اٹارنی جنرل کیس کی مضبوطی، کامیابی کے امکانات اور قانونی اثرات کا جائزہ لیں اور اگر کیس قابلِ سماعت ہو تو ایٹسالات کو نوٹس آف انٹینٹ بھیجنے سے قبل وزیراعظم یا وفاقی حکومت سے منظوری لیں۔ نجکاری ڈویژن نے کمیٹیوں کو بتایا کہ سمری وفاقی کابینہ کو بھیج دی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل کے دفتر کو ہدایت دی گئی ہے کہ رولز آف بزنس 1973 کے رول 24 کے تحت کابینہ کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرے۔
یہ ایجنڈا آئٹم ان کیمرہ اجلاس میں لیا گیا۔ آئی ٹی سیکرٹری زرّار ہاشم خان نے اسے حساس قرار دیا اور غیر متعلقہ افراد بشمول صحافیوں کو کمرے سے باہر جانے کو کہا۔
دونوں کمیٹیوں کے سینیٹرز نے کہا کہ انہیں 26 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی سے متعلق سیل پرچیز ایگریمنٹ تک رسائی نہیں دی گئی۔ ایک سینیٹر نے کہا کہ قومی اثاثوں کی فروخت پر پارلیمنٹ کو قانون سازی کے ذریعے معلومات فراہم کی جانی چاہئیں، افسروں اور بیوروکریٹس کے بھروسے پر نہ چھوڑا جائے۔
یہ تنازع دو دہائیوں سے طے نہیں ہوا اور اب معاملہ کابینہ کے پاس ہے جبکہ اٹارنی جنرل یہ جانچ رہے ہیں کہ ثالثی ٹریبونل کے سامنے رقم واپس لینا ممکن ہے یا نہیں۔
رپورٹوں میں فرق
ٹیک جوس نے لکھا کہ ثالثی پر ابھی غور جاری ہے، اس کی سفارش کمیٹی نے کی ہے اور یہ اٹارنی جنرل کے جائزے اور وفاقی کابینہ کی منظوری پر منحصر ہے۔ پروپاکستانی کی سرخی میں کہا گیا کہ پاکستان ایٹسالات کو بین الاقوامی عدالت میں لے جائے گا، یعنی معاملہ طے شدہ طور پر پیش کیا گیا اور عدالت کا نام لیا گیا، جبکہ سیل پرچیز ایگریمنٹ کے تحت ثالثی کا ذکر نہیں کیا گیا؛ اس کی سرخی اور اسٹینڈ فرسٹ میں مزید تفصیل نہیں تھی۔ ٹیک جوس نے مالی تفصیلات بشمول 2.59 ارب ڈالر کی فروخت اور 32 غیر منتقل شدہ جائیدادیں نجکاری کی وزارت کی اس بریفنگ سے منسوب کیں جو ڈان نے دیکھی۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی میں پاکستان کی قرارداد منظور، صرف انڈیا اور اسرائیل نے مخالفت کی
فرسٹ کمیٹی نے علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق پاکستان اور بیلاروس کی قرارداد 180 ووٹوں سے منظور کی، امریکہ، چین اور روس نے بھی حمایت کی۔

قومی اسمبلی کمیٹی: واپڈا سکیورٹی بل پھر مؤخر، کے-فور کی تاخیر کی تحقیقات
محمد ادریس کی زیرقیادت چار رکنی ذیلی کمیٹی یہ دیکھے گی کہ 171 ارب روپے کے کے-فور منصوبے کو تقریباً دو دہائیوں بعد بھی مکمل کیوں نہیں کیا جا سکا۔

الیکشن اصلاحات کمیٹی کی تشکیل پر پی ٹی آئی نے اعتراض اٹھا دیا
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی سے پانچ ارکان کے نام طلب کیے، مگر پارٹی کا کہنا ہے کہ 15 سرکاری ارکان کے مقابلے میں پانچ اپوزیشن ارکان کے ساتھ توازن ممکن نہیں۔

قائمہ کمیٹی نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں کم از کم اجرت نافذ نہ ہونے پر سوال اٹھا دیا
وفاقی سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ چند روز میں بورڈ کی قرارداد منظور ہو جائے گی، جس کے بعد ہر اضافے پر دوبارہ منظوری کی ضرورت نہیں رہے گی۔

حکومت دو سال میں طلبہ کو پانچ لاکھ کرووم بکس دے گی
منٹ مرر کے مطابق پنجاب کو 181,090، اسلام آباد کو 100,000 اور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کو 25,000، 25,000 ڈیوائسز ملیں گی، جبکہ رواں مالی سال 200,000 ڈیوائسز تقسیم کی جائیں گی۔

سینیٹ کمیٹی کا وزیراعظم کے اقوام متحدہ دورے اور ایران امریکہ تنازعے پر بریفنگ کا مطالبہ
قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ نے ایچ ای سی، نادرا اور وزارت خارجہ کو اگلے اجلاس میں integrated ای اٹیسٹیشن نظام کا جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

سردیوں میں ایل پی جی فراہمی کی یقین دہانی، سلنڈر دوگنی قیمت پر فروخت
علی پرویز ملک کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب، ایرانی سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے سپلائی متاثر؛ اسحاق دار کی جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات

سپریم کورٹ نے سابق آئی بی ملازم کی اپیل مسترد کر دی
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جواد عباسی کی کمپلسری ریٹائرمنٹ برقرار رکھی اور کہا کہ خاتون کی عزت کا احترام آئینی ذمہ داری ہے۔