سردیوں میں مہنگا ایندھن: دسمبر تا فروری بجلی کے بل بڑھنے کا خدشہ
پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق ہائیڈرو پاور کی پیداوار گرنے اور ایل این جی کی قیمتیں بڑھنے سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو سے تین گنا تک بڑھ سکتی ہے۔

اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی کے صارفین کو دسمبر، جنوری اور فروری میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں معمول سے دو سے تین گنا زیادہ اضافہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع نے اے آر وائی نیوز اور منٹ مرر کو بتایا کہ سردیوں میں ہائیڈرو پاور کی پیداوار گرنے سے مہنگے ایندھن سے بجلی بنانے پر انحصار بڑھے گا۔
دونوں اداروں نے جمعے کو اپنی رپورٹس میں پاور ڈویژن کے انہی ذرائع کا حوالہ دیا اور دسمبر تا فروری کی اسی مدت کا ذکر کیا۔ کسی رپورٹ میں ایف پی اے کی فی یونٹ روپوں میں کوئی رقم نہیں بتائی گئی اور نہ ہی نیپرا کی کسی نئی نوٹیفکیشن یا فیصلے کا حوالہ دیا گیا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ذرائع نے کہا کہ سردیوں میں کم ہائیڈرو پیداوار کے باعث مہنگی بجلی پیدا کرنے پر انحصار بڑھے گا جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ ذرائع نے خبردار کیا کہ دسمبر تا فروری ملک بھر میں لوڈ مینجمنٹ میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ بجلی گھروں کے لیے مقامی گیس کی دستیابی کو بڑا چیلنج قرار دیا گیا، جبکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی بلند قیمتیں بھی لاگت کو بلند رکھیں گی۔
منٹ مرر نے بھی یہی توقعات رپورٹ کیں اور بتایا کہ ایل این جی اور کوئلے کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق سردیوں میں مقامی گیس کی فراہمی اکثر ناکافی ہو جاتی ہے کیونکہ گھریلو استعمال کو ترجیح دی جاتی ہے، جس سے بجلی گھروں کے پاس مہنگے ایندھن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ منٹ مرر کے مطابق ایندھن کے بوجھ کو قابو میں رکھنے کی حالیہ کوششوں میں دو گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ شامل تھی، تاہم اب ایل این جی کی عالمی قیمتیں کافی بڑھ چکی ہیں۔
اے آر وائی نیوز نے نیپرا کی ایک پرانی کارروائی کا بھی حوالہ دیا۔ ریگولیٹر نے جنوری 2024 میں ایندھن کے غیر معمولی اخراجات اور نظام کی نااہلی پر سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی پر مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق نیپرا نے اس ماہ ایندھن کی لاگت کا بینچ مارک 7.49 روپے فی یونٹ مقرر کیا تھا لیکن اصل لاگت 14.60 روپے فی یونٹ رہی۔ سی پی پی اے نے ایف پی اے کے تحت 7.13 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی تھی جس پر تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ سستے ذرائع دستیاب ہونے کے باوجود فرنس آئل اور ڈیزل سے مہنگی بجلی پیدا کی گئی۔ نیپرا نے کہا کہ ایل این جی اور نیوکلیئر پلانٹس کی پیداوار کم کی گئی اور ڈیزل و فرنس آئل پر انحصار کے نتیجے میں 31.23 ارب روپے مالیت کی مہنگی بجلی پیدا ہوئی۔
ایندھن کے یہ اخراجات عموماً ریگولیٹر کے طے کردہ وقفے وقفے کے ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر منتقل کیے جاتے ہیں، اسی لیے گھریلو بلوں کے لیے ماہانہ ایف پی اے کی رقم ہی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
دونوں رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سردیوں کے لیے ایف پی اے کی نئی درخواست جمع کرائی گئی ہے یا نہیں، اور نہ ہی کسی فیصلے کی متوقع تاریخ دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔