سوتھرا پنجاب میں 17.5 ملین روپے ماہانہ ایندھن گھپلے کی انکوائری
تفتیش کاروں کے مطابق فیصل آباد کی ایجنسی نے صوبے کو 800 گاڑیاں دکھائیں جبکہ تقریباً 550 گاڑیاں ہی سڑک پر تھیں۔

پنجاب کی انسدادِ بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ نے فیصل آباد میں سوتھرا پنجاب ایجنسی کے ایندھن اور گاڑیوں کے کرائے سے متعلق مبینہ مالی بےضابطگیوں کی انکوائری شروع کر دی ہے۔ پروپاکستانی نے 2 نومبر کو شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا کہ نقصان کا تخمینہ 17.5 ملین روپے ماہانہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایجنسی نے صوبائی حکومت کو 800 صفائی کی گاڑیاں دکھائیں جبکہ تقریباً 550 گاڑیاں ہی کام کر رہی تھیں۔ اعلان کردہ بیڑے کے ایندھن پر ماہانہ تقریباً 15.6 ملین روپے خرچ آ رہا تھا۔ مزید 200 گاڑیوں کے کرائے شامل کرنے پر مبینہ بےضابطگی تقریباً 17.5 ملین روپے ماہانہ بنتی ہے۔ اعلان کردہ گاڑیوں اور میدان میں実際 کام کرنے والی گاڑیوں کے درمیان تقریباً 250 گاڑیوں کا فرق ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون نے بھی انکوائری کی خبر "ACE probes scam in Suthra Punjab" کے عنوان سے شائع کی، تاہم اس میں کوئی رقم یا اہلکار کا نام نہیں دیا گیا۔
پروپاکستانی کے مطابق تفتیش کار یہ الزامات دیکھ رہے ہیں کہ ایک پٹرول پمپ کے ملازمین نے ایک ہی گاڑی پر متعدد جعلی نمبر پلیٹیں لگا کر مختلف گاڑیوں کے نمبروں پر ایندھن حاصل کیا اور پھر گاڑی کو راجبہ روڈ پر پمپ کے قریب ایک ورکشاپ لے جا کر ایندھن نکال دیا۔
انکوائری میں یہ دعوے بھی زیرِ غور ہیں کہ گاڑیوں کے ٹریکنگ آلات جان بوجھ کر خراب کیے گئے اور پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کر دیے گئے تاکہ کارروائی چھپی رہے۔
ادارے کے اہلکاروں نے کچھ ملازمین سے ویڈیو ریکارڈنگز، دستاویزات اور موبائل فون حاصل کر لیے ہیں۔ فیصل آباد کے انسدادِ بدعنوانی کے اہلکار شواہد اور ایجنسی کے مالی ریکارڈ کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ نقصان کا حجم اور ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔
ابھی تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں اور کسی ملازم کا نام سامنے نہیں آیا۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ قانونی کارروائی انکوائری کے نتائج پر منحصر ہوگی، جو ابھی شواہد جمع کرنے کے مرحلے میں ہے۔
دونوں رپورٹوں میں سوتھرا پنجاب ایجنسی، محکمہ لوکل گورنمنٹ یا الزامات میں مذکور کسی ملازم کا موقف شامل نہیں۔

لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ایندھن اور مرمت کے اخراجات کا خصوصی آڈٹ
وزیراعلیٰ کی انسپیکشن ٹیم نے ورکشاپ ریکارڈ اور وہیکل ٹریکنگ سسٹم کے درمیان تضاد اور نیلامی کے منتظر 291 گاڑیاں دریافت کیں۔

ڈسکہ میں ٹک ٹاکر کی شادی کی محفل میں بھگدڑ، دو افراد ہلاک
وفاقی وزیر خواجہ آصف نے ٹک ٹاک سے کمائی کی ضابطہ بندی کا مطالبہ کیا، جبکہ پولیس نے انصار جٹ عرف پٹلو کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

راولپنڈی عدالت نے ہنڈی ہوالہ کیس میں 10 سال قید کی سزا سنا دی
ملزم خان بہادر خان نے جرم تسلیم کر لیا، ایف آئی اے کے مطابق اس کے اکاؤنٹ میں 108 ملین روپے سے زائد منتقل ہوئے جن میں شاہین ایئر انٹرنیشنل بھی شامل ہے۔

ایم 4 موٹروے کا فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک حصہ اگلے سال چھ لین ہو جائے گا
وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے کمال پور انٹرچینج پر ہدف کا اعلان کیا اور افسران کو مشینری اور عملہ بڑھانے کی ہدایت دی۔

مری میں برف باری کے موسم کے لیے حفاظتی پلان فعال
مری اور گلیات میں 15 دسمبر سے 15 فروری تک 19 فیسیلیٹیشن سینٹر، 181 سیف سٹی کیمرے اور 20 سے زیادہ برف صاف کرنے والی گاڑیاں تعینات رہیں گی۔

نیلا گنبد پارکنگ پلازہ 90 فیصد مکمل، ایل ڈی اے چیف نے جائزہ لیا
ڈائریکٹر جنرل طاہر فاروق نے مال روڈ سے نیلا گنبد تک لنک روڈ پر اسفالٹ اور پارکنگ مینجمنٹ سسٹم کی تنصیب کا کام تیز کرنے کی ہدایت کی

سالک حسین کا دعویٰ: پنجاب کے بجٹ کا بڑا حصہ لاہور کو
وفاقی وزیر نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ حکومت کے حمایت یافتہ نمائندوں والے اضلاع کو منصوبے ملتے ہیں، اور پرویز الٰہی کو پنجاب کا بہترین وزیر اعلیٰ قرار دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کو دو بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت کا حکم
عدالت نے 4 نومبر کو ڈی سی لاہور کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا اور ہوم ڈیپارٹمنٹ سے عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی پر رپورٹ مانگی