مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

مستونگ حملے میں ہلاک شدت پسندوں سے افغان دستاویزات برآمد

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں افغان شہری بھی شامل تھے اور ایک افغان انٹیلی جنس کارڈ اور تذکرہ ملا ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ

ایکسپریس نیوز نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں افغان شہری بھی شامل تھے اور ان کی لاشوں سے برآمد ہونے والی دستاویزات افغان انٹیلی جنس سے تعلق کی نشاندہی کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک شدت پسندوں کا تعلق فتنہ الہندوستان سے تھا۔ ہلاک شدت پسند ذوالفقار المعروف ابو عمر کے پاس سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کا کارڈ ملا، جبکہ دوسرے ہلاک شدت پسند خلیل احمد کے پاس سے افغان تذکرہ برآمد ہوا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے ان برآمدگیوں کو پاکستان میں دہشت گردی میں افغان عناصر کے ملوث ہونے کا تازہ ثبوت قرار دیا۔ ذرائع نے الزام لگایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور کابل میں طالبان حکومت نے پاکستان میں حملوں کی حمایت کے لیے مشترکہ خفیہ نیٹ ورک چلا رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق 2025 کی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں اس نیٹ ورک کا انکشاف ہو چکا تھا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را نے بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے 78 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ طالبان رہنما ملا ہبۃ اللہ کی ہدایت پر فتنہ الہندوستان کے شدت پسندوں کو جدید اسلحہ اور لاجسٹک مدد فراہم کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ملا ہبۃ اللہ کا لکھا ہوا ایک خط جس میں فتنہ الہندوستان کو اسلحہ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، طالبان حکومت اور اس گروہ کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ را طالبان حکومت کے ساتھ مل کر افغان سرزمین کو پاکستان کو نشانہ بنانے والے شدت پسندوں کی تربیت، مالی معاونت اور پناہ گاہوں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اردو پوائنٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ مستونگ حملے میں ہلاک شدت پسندوں سے افغان دستاویزات برآمد ہوئی ہیں، تاہم اس نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مستونگ میں یہ کارروائی کب ہوئی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں افغان حکام کا کوئی ردعمل شامل نہیں تھا۔

سلامتیبلوچستان

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے

سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

صحتبلوچستان

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

سیاستبلوچستان

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا

سلامتیبلوچستان

خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ

پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔