آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیاں نئی گاڑی پالیسی کے مسودوں پر پریشان
آٹو اینڈ آٹو پارٹس پالیسی 2026-31 کو وزیراعظم نے ستمبر میں اصولی طور پر منظور کیا، مگر ڈان کے مطابق انڈسٹری کے پاس صرف لیک ہوئے مسودے پہنچے ہیں۔

پاکستان میں آٹو پارٹس بنانے والی کمپنیاں آٹو اینڈ آٹو پارٹس پالیسی 2026-31 کے لیک ہوئے مسودوں کی بنیاد پر اپنے تحفظات بنا رہی ہیں۔ ڈان نے پیر کو رپورٹ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ستمبر کے اوائل میں اس پانچ سالہ پالیسی کو اصولی طور پر منظور کیا اور گزشتہ ماہ کے آخر میں دستاویز "آئی ایم ایف جائزے" کے لیے بھیج دی گئی۔
پالیسی کا دائرہ 1,200 آٹو پارٹس مینوفیکچرنگ کمپنیوں پر محیط ہے۔ ڈان کے مطابق یہ کمپنیاں 300,000 افراد کو براہ راست اور 1.8 ملین افراد کو بالواسطہ ملازمتیں دیتی ہیں۔
دستاویز کا مکمل متن اب تک عام نہیں کیا گیا۔ ڈان نے بتایا کہ کئی مسودے گردش کر رہے ہیں اور حکومت کے قریبی حلقوں سے باہر کسی کو بھی اصولی طور پر منظور شدہ اور آئی ایم ایف کو بھیجے گئے متن کا علم نہیں۔
اخبار کے مطابق تازہ ترین مسودہ اس شعبے کے حجم کا اعتراف کرتے ہوئے شروع ہوتا ہے اور اس میں 4 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ڈان نے مکمل متن شائع نہیں کیا اور یہ بھی نہیں بتایا کہ آئی ایم ایف جائزے میں کیا دیکھا جائے گا یا وہ کب مکمل ہوگا۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمپنیوں نے لیک مسودے پڑھنے کے بعد تشویش کا اظہار کیا۔ مسودے میں نئی توانائی کی گاڑیوں کی طرف منتقلی کا ذکر ہے، تاہم رپورٹ میں ان مخصوص شقوں کی تفصیل نہیں دی گئی جن پر اعتراض کیا گیا۔
آج انگلش ٹی وی نے صنعت کی صورتحال پر اپنی رپورٹ میں کہا کہ گاڑیاں اور پرزے بنانے والے ادارے بجلی کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں اور کاروباری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دستیاب مواد میں اس چینل نے ان اخراجات کے اعداد و شمار نہیں دیے۔
حکومت نے پالیسی کی دستاویز اب تک جاری نہیں کی اور ڈان نے وزارتِ صنعت یا کسی صنعتی انجمن کا کوئی بیان مسودوں کے بارے میں رپورٹ نہیں کیا۔
پاکستان کا آٹو شعبہ ملکی مینوفیکچرنگ کے زیادہ محفوظ حصوں میں شمار ہوتا ہے، اور 2031 تک چلنے والا یہ فریم ورک پلانٹس کی جدید کاری، مقامی پیداوار اور پٹرول و ڈیزل گاڑیوں سے منتقلی کی شرائط طے کرے گا۔ مسودے میں نامزد 1,200 کمپنیوں کے لیے یہ شرائط ہی فیصلہ کریں گی کہ موجودہ پلانٹس الیکٹرک اور ہائبرڈ ماڈلز کے پرزے بنا سکیں گے یا درآمدی پرزوں کے سامنے پیچھے رہ جائیں گے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ پالیسی ان اقدامات میں شامل ہے جو حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔ وزیراعظم کی اصولی منظوری ستمبر کے اوائل میں ہوئی، جس کے بعد گزشتہ ماہ کے آخر میں دستاویز جائزے کے لیے بھیجی گئی۔

آٹو پارٹس ساز کمپنیاں پانچ سالہ آٹو پالیسی کا جائزہ مانگتی ہیں
مطالبے کی بنیاد ٹیکس میں رعایت کی مقدار نہیں بلکہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کی پوری مدت کے لیے ڈیوٹی اور ٹیکس کی شرح پہلے سے معلوم ہو، دو رپورٹوں کے مطابق۔

گلانی کا پانی کے تحفظ کے لیے قانون سازی، نگرانی اور فنڈز کا عہد
سینیٹ کے چیئرمین نے اسلام آباد میں پاکستان واٹر ویک 2026 کے افتتاح پر کہا کہ صوبائی آبی قوانین پر مکمل عمل درآمد اور زمینی پانی کے اخراج پر ضابطے ضروری ہیں

ریفائنریز ماہانہ 15 ارب روپے کا بوجھ اٹھائیں گی، پٹرول 15 روپے سستا
پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک اور اطلاعات کے وزیر عطاء اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا، عرب نیوز پاکستان کے مطابق ریفائنریز ماہانہ 54 ملین ڈالر برداشت کریں گی۔

پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو ایڈرین ہیملٹن مینز نے چارج سنبھال لیا
سابق سلام ایئر سربراہ نے ایئر وائس مارشل عامر حیات کی جگہ لی، جو ساڑھے چار سال تک قومی ایئرلائن کے سربراہ رہے اور اسے نجکاری کے لیے تیار کیا۔

پیٹرول 15 روپے سستا ہو سکتا ہے، بوجھ ریفائنریوں پر منتقل
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ نئے فارمولے سے ریفائنریوں پر ایک ماہ میں 15 ارب روپے کا بوجھ آئے گا، ریفائنریاں مشاورت نہ ہونے پر تحفظات رکھتی ہیں۔

وزیر اعظم کا ایس ایم ایز اور کسانوں کو سست قرضے دینے والے بینکوں کے خلاف کارروائی کا حکم
اسلام آباد میں قرضوں کے جائزے کے اجلاس میں وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کو جامع لائحہ عمل بنانے اور مالی سال 2027 تک 1,500 ارب روپے کے ہدف کی ہدایت دی۔

فخر زمان کی سنچری، پاکستان نے ٹرائی سیریز کا فائنل جیت لیا
پاکستان نے گڈافی اسٹیڈیم میں 326 رنز کا ہدف نو گیندیں باقی رہتے ہوئے حاصل کیا، سری لنکا کی جانب سے کمندو میندس نے 131 رنز بنائے۔

عطاء اللہ تارر کا پی ٹی وی ڈرامہ اینڈ فلم اکیڈمی کی بحالی کا اعلان
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ بحال ہونے والی اکیڈمی میں ملک میں پہلی بار کلر گریڈنگ کی تربیت دی جائے گی اور نجی اسٹوڈیوز اور یونیورسٹیاں شراکت دار بنائی جائیں گی۔