بلوچستان اسمبلی: سرداری نظام خاتمے کی قرارداد پر کارروائی آگے نہ بڑھی
اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے ایوان کو بتایا کہ سرداری نظام ختم کرنے کی قانون سازی 1976 میں ہو چکی ہے اور یہ پورے ملک پر لاگو ہے، ڈان کے مطابق۔

بلوچستان اسمبلی نے پیر کو وہ قرارداد آگے نہیں بڑھائی جس میں صوبے میں سرداری نظام فوری طور پر ختم کرنے اور سردار اور نواب کے القاب کے تحریری و تقریری استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ اطلاع ڈان نے دی۔
رپورٹ کے مطابق یہ قرارداد کوئٹہ میں ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھی اور اسے جمعیت اسلامی کے رکن اسمبلی ہدایت الرحمٰن بلوچ نے پیش کیا۔ قرارداد میں صوبے میں موروثی سرداری نظام کے خاتمے اور ان دونوں القابات کے سرکاری مراسلات یا عوامی خطاب میں استعمال پر روک کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اسپیکر ریٹائرڈ کیپٹن عبدالخالق اچکزئی نے ایوان کو بتایا کہ دستیاب قانونی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا ہے اور سرداری نظام ختم کرنے کی قانون سازی 1976 میں ہی ہو چکی ہے۔ ڈان کے مطابق اسپیکر کا موقف یہ تھا کہ موجودہ قانون پورے ملک پر لاگو ہوتا ہے، اسی لیے قرارداد کو نئی قانون سازی کے لیے آگے بڑھانے کے بجائے زیرِ کارروائی نہیں لایا گیا۔
پیر کے اجلاس سے کوئی نیا قانون سامنے نہیں آیا۔ ڈان کی رپورٹ میں نہ اس 1976 کے قانون کا متن دیا گیا جس کا اسپیکر نے حوالہ دیا، اور نہ قرارداد پر کسی ووٹ کا ذکر کیا گیا۔
خبر رساں ایجنسی کے طور پر کام کرنے والے پلیٹ فارم یو اے نیوز نے ڈان کے حوالے سے ایک الگ رپورٹ جاری کی جس کے مطابق بلوچستان کے قبائلی رہنماؤں نے سرداری نظام کے خاتمے کی مخالفت کی ہے۔ اس رپورٹ میں نہ رہنماؤں کے نام دیے گئے، نہ ان کی تعداد بتائی گئی، اور نہ یہ واضح کیا گیا کہ انہوں نے خاتمے کی مخالفت کے علاوہ کیا کہا یا کیا۔
دونوں رپورٹیں ایک ہی واقعے کے دو رخ پیش کرتی ہیں: ایک طرف ایوان میں رکن کی قرارداد کی کارروائی، دوسری طرف ایوان سے باہر خاتمے کی مخالفت۔ کسی رپورٹ میں مخالفت کرنے والے کسی شخص کا نام نہیں دیا گیا اور نہ اسمبلی میں حمایت یا مخالفت کے اعداد و شمار بتائے گئے۔
سرداری نظام بلوچستان میں موروثی قبائلی سرداری کا نظام ہے جس میں اختیار اور اکثر زمین کی ملکیت ایک ہی خاندان کی نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ صوبے کی سیاست میں اس نظام کے خاتمے اور سردار و نواب کے القاب کے استعمال کو محدود کرنے کے مطالبات پہلے بھی اٹھتے رہے ہیں، عام طور پر ایسی جماعتوں کی طرف سے جو یہ دلیل دیتی ہیں کہ یہ نظام طاقت اور وسائل چند خاندانوں میں مرکوز کر دیتا ہے۔
قرارداد کے زیرِ کارروائی نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ اسمبلی نے پیر کو اس معاملے پر کوئی نئی قانون سازی نہیں کی، کیونکہ اسپیکر کا موقف تھا کہ یہ سوال 1976 کے وفاقی قانون میں پہلے ہی شامل ہے۔ رپورٹس سے یہ واضح نہیں ہوا کہ ہدایت الرحمٰن بلوچ یا ان کی جماعت آئندہ اجلاس میں یہ معاملہ دوبارہ اٹھائیں گے یا نہیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔