بلوچستان ہائی کورٹ کا شاہراہوں پر سہولتیں بہتر بنانے کا حکم
یہ حکم آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا اور اس میں این-25 اور این-50 پر درخت کاری اور پانی کی فراہمی پر زور دیا گیا

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو صوبے کی قومی شاہراہوں پر مسافروں کے لیے سہولتیں بہتر بنانے کا حکم دیا ہے، خاص طور پر این-25 اور این-50 پر توجہ دی جائے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ حکم بدھ کو ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔
چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ شاہراہوں کے کنارے درخت کاری اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ عدالت نے اتھارٹی سے مسافروں کے لیے دیگر سہولتیں فراہم کرنے کو بھی کہا، تاہم رپورٹ میں ہر اقدام کی تفصیل نہیں دی گئی۔
این ایچ اے کے رکن برائے مغربی زون بشیر حسین نو اپریل کے عدالتی حکم کی تعمیل میں عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اس سے قبل کے حکم میں اتھارٹی سے شاہراہوں پر کیے گئے کام کی وضاحت طلب کی گئی تھی۔ بدھ کی سماعت کے بعد بینچ نے نئی ہدایات جاری کیں۔ رپورٹ میں تعمیل کی کوئی میعاد بیان نہیں کی گئی۔
این-25 اور این-50 بلوچستان کی اہم قومی شاہراہیں ہیں جو کوئٹہ کو ملک کے دیگر حصوں سے ملاتی ہیں۔ ان پر مسافر اور مال بردار ٹریفک طویل فاصلے طے کرتی ہے۔ بہت سے علاقوں میں سڑک کے کنارے پانی، سایہ اور آرام گاہ جیسی سہولتیں محدود ہیں اور مسافروں کو خاص طور پر گرمیوں میں بنیادی سہولتوں کے بغیر لمبے سفر کرنا پڑتا ہے۔
عدالت کا یہ حکم بلوچستان میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی عدالتی نگرانی کا حصہ ہے۔ این ایچ اے قومی شاہراہوں کی تعمیر اور دیکھ بھال کی ذمہ دار وفاقی ادارہ ہے۔ بلوچستان این ایچ اے کے مغربی زون کا حصہ ہے جو ملک کے مغربی علاقوں میں قومی شاہراہوں کی نگرانی کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ این ایچ اے کو کب تک رپورٹ دینا ہوگی اور اگلی سماعت کی کوئی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔ درخواست اور فریقین کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔