بلوچستان میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ
صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر اجتماعات، دھرنے، ریلیاں اور احتجاج ممنوع ہوں گے اور چہرہ ڈھانپنے پر بھی پابندی ہوگی۔

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات پر اجتماعات، دھرنے، ریلیاں اور احتجاج ممنوع ہوں گے۔ صوبائی حکام کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے اور نقاب پہننے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ یہ حکم پورے صوبے میں 30 روز تک نافذ رہے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو اس حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈان نے بھی جمعے کو دفعہ 144 کے نفاذ کی خبر دی۔
اسلام آباد میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، جہاں شہر انتظامیہ نے کہا ہے کہ شہر میں کسی بھی قسم کا اجتماع منع ہے۔
دوسری جانب بزنس ریکارڈر نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ممکنہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک کے کچھ حصوں میں 26 اور 27 ستمبر کو موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات معطل رہیں گی۔
ذرائع کے مطابق یہ معطلی سیکیورٹی اقدامات کا حصہ ہے۔ پانچ روز قبل ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس میں موٹر ویز، جی ٹی روڈ اور دیگر اہم راستوں کی بندش سمیت امن و امان برقرار رکھنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
بلوچستان حکومت نے پابندیوں کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ چہرہ ڈھانپنے اور نقاب پر پابندی صوبے بھر میں حکم کی مدت تک عوامی مقامات پر لاگو رہے گی۔
یہ حکم 30 روز تک نافذ رہے گا جس کے بعد حکام کی جانب سے تجدید نہ کرنے پر ختم ہو جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو عملدرآمد کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
ممکنہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں حکام نے احتیاطی حفاظتی اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔