پاکپتن کے قریب بس اور ٹرک میں تصادم، 11 ہلاک اور 33 زخمی
ریسکیو ٹیموں نے تقریباً تین گھنٹے تک کرینوں سے ملبہ ہٹا کر پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالا اور 25 زخمیوں کو ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن منتقل کیا۔

پاکپتن کے قریب ڈپالپور روڈ پر جمعرات کو مسافر بس اور ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 دونوں نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہی تعداد بتائی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ ڈپالپور روڈ پر پیش آیا، جہاں ملتان سے قصور جا رہی مسافر بس مخالف سمت سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی۔ ضلعی انتظامیہ کے پریس ریلیز کے حوالے سے بتایا گیا کہ 11 افراد جان سے گئے جبکہ 33 زخمی ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق تصادم اتنا شدید تھا کہ کئی مسافر گاڑیوں کے ملبے میں پھنس گئے۔
منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تقریباً تین گھنٹے تک امدادی کارروائی جاری رکھی۔ کرینوں اور بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹا کر پھنسے ہوئے مسافروں کو باہر نکالا گیا۔ آٹھ زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ 25 زخمیوں کو ضلع ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن منتقل کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر آصف رضا اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جاوید اقبال چدھڑ موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائی کی نگرانی کی۔ زخمیوں کی بڑی تعداد کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی اور اضافی ڈاکٹروں اور طبی عملے کو طلب کرنے کی ہدایت کی۔ وہ بعد ازاں ڈی پی او کے ہمراہ ہسپتال پہنچے اور زخمیوں کا حال چال پوچھا اور طبی انتظامات کا جائزہ لیا۔ ڈپٹی کمشنر نے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا اور ہلاک شدگان کے خاندانوں سے تعزیت کی۔
صدر آصف علی زرداری نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی، زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی اور واقعے کی رپورٹ طلب کی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بھی جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
کسی رپورٹ میں تصادم کی وجہ نہیں بتائی گئی۔
رپورٹوں میں فرق
دونوں outlets نے ہلاکتوں کی تعداد 11 اور زخمیوں کی 33 بتائی، لیکن دونوں نے مختلف ذرائع سے خبر شروع کی: ڈان نے ضلعی انتظامیہ کی پریس ریلیز کا حوالہ دیا جبکہ منٹ مرر نے ریسکیو 1122 کا۔ منٹ مرر نے تنہا یہ تفصیلات دیں کہ آٹھ زخمیوں کو موقع پر طبی امداد دی گئی اور 25 کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا، امدادی کارروائی تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور کرینیں استعمال ہوئیں، ڈپٹی کمشنر نے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی، اور اسی نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعلیٰ مریم نواز اور اسپیکر سردار ایاز صادق کے تعزیتی بیانات شائع کیے۔ ڈان نے دوسری گاڑی کو پہلی سطر میں ٹریلر اور بعد میں ٹرک لکھا، جبکہ منٹ مرر نے اسے ہر جگہ ٹرک کہا۔

پنجاب کے دو حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے فوج اور رینجرز کی تعیناتی منظور
ڈنیا نیوز اور پاکستان کنیکٹ میں سے کسی رپورٹ نے دونوں حلقوں کے نام یا تعینات ہونے والے اہلکاروں کی تعداد نہیں بتائی۔

ایل ایچ سی: بینکنگ کورٹ کے فیصلے تک ایف آئی اے گرفتار نہیں کر سکتی
ڈویژن بینچ نے کہا کہ جان بوجھ کر نادہندگی پہلے سول کارروائی میں ثابت ہونی چاہیے، اور 2019 کے ایل ایچ سی فیصلے سے اختلاف کیا۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ 7 فروری 2027 کو ہوگا
الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی درخواست قبول کر کے اپنی تجویز کردہ 14 دسمبر 2026 کی تاریخ چھوڑ دی اور موسم سرما کی دھند کا حوالہ دیا۔

پنجاب میں فوری بلدیاتی انتخابات کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست
جوڈیشل ایکٹیوزم پینل کی درخواست میں بلدیاتی اختیارات اور اثاثے غیر منتخب اداروں کو منتقل کرنے سے روکنے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔

پنجاب میں چھوٹی جماعتوں کے لیے نئی کتابیں، کیو آر کوڈ سے ویڈیو سبق
ابتدائی بچپن کی تعلیم سے پانچویں جماعت تک کا نیا نصاب کیمبرج کو بھیجا گیا ہے، کتابوں کی چھپائی جنوری میں شروع ہوگی اور اپریل کے تعلیمی سیشن سے پہلے دستیاب ہوں گی۔

سنکیانگ وفد نے لاہور کے تاجروں کو ٹیکسٹائل اور زراعت میں مشترکہ سرمایہ کاری کی پیشکش کی
چینی وفد نے چار ترجیحی شعبے بتائے اور کپاس، کولڈ چین اور کسٹم طریقہ کار میں مدد کی پیشکش کی، جبکہ ایل سی سی آئی نے لاہور میں چائنا ٹاؤن کی تجویز دی۔

پنجاب کے وزیر شفای حسین نے بھائی سالک سے فاصلہ اختیار کر لیا
اطلاعات و ثقافت کی وزیر آزمہ بخاری کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی حمایت کے بعد پنجاب کابینہ سے شفای حسین کو ہٹانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

آزما بخاری کا سلیک حسین کو الزامات ثابت کرنے یا معافی مانگنے کا چیلنج
پنجاب کی اطلاعاتی وزیر کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر کو مریم نواز کے خلاف الزامات کے ثبوت پیش کریں یا معافی مانگیں اور وزیراعلیٰ کے قانونی نوٹس کا جواب دیں