مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

گوادر بندرگاہ سے چین کی پسپائی کا امکان، رپورٹ میں دعویٰ

ایف ایم بھارت نے سیکیورٹی خطرات اور اقتصادی دباؤ کے باعث چین کی گوادر سے پسپائی کا امکان ظاہر کیا، جبکہ لوی انسٹی ٹیوٹ نے بھی اسے ناکام قرار دیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی شائع شدہ تجزیاتی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ چین پاکستان کے گوادر بندرگاہ سے اپنی وابستگی کم کر سکتا ہے۔ گوادر بلوچستان کے ساحل پر واقع گہرے پانی کی بندرگاہ ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے نمایاں منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔

ایف ایم بھارت نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ چین کو گوادر بندرگاہ سے پسپائی کا امکان ہے، جس کی وجہ شدید سیکیورٹی خطرات اور اقتصادی دباؤ ہیں۔ دوسری جانب آسٹریلوی تھنک ٹینک لوی انسٹی ٹیوٹ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ چین کا گوادر کا منصوبہ فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہا۔

دونوں اداروں نے اپنی رپورٹس کا مکمل متن فراہم نہیں کیا اور دستیاب مواد میں چین کی ممکنہ پسپائی کے پیمانے، وقت یا ثبوت کی وضاحت نہیں کی گئی۔ سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر ان دعووں کی تصدیق نہیں کر سکا۔ پاکستانی حکام یا محکموں نے ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

گوادر کو برسوں سے سی پیک کا مرکز قرار دیا جاتا رہا ہے، جس کا مقصد مغربی چین کو پاکستانی بندرگاہوں سے ملانا ہے۔ بندرگاہ چین اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی چلاتی ہے۔ بلوچستان میں چینی کارکنوں اور تنصیبات پر مسلح حملے ہوتے رہے ہیں اور بندرگاہ سے گزرنے والی تجارت ابتدائی تخمینوں سے کم رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں بلوچستان کے مسلح گروہ گوادر اور صوبے کے دیگر علاقوں میں چینی کارکنوں اور بندرگاہ سے منسلک تنصیبات پر حملے کرتے رہے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے کام میں وقفے آئے اور چینی کمپنیوں کے سیکیورٹی اخراجات بڑھے۔ دستیاب رپورٹس میں کسی ایک واقعے کو ممکنہ پسپائی سے جوڑا نہیں گیا۔

سی پیک کے تحت سڑکیں، ریلوے لائنیں، بجلی کے منصوبے اور گوادر بندرگاہ شامل ہیں۔ پاکستان نے سی پیک منصوبوں اور چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے خصوصی سیکیورٹی فورس قائم کی ہے، تاہم موجودہ مواد میں اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعداد و شمار شامل نہیں۔

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسلام آباد غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وفاقی وزرا سی پیک کو ملکی ترقی کا مرکز قرار دیتے رہے ہیں۔ چینی حکام نے بھی ماضی میں سی پیک کی طویل مدتی اہمیت پر زور دیا ہے، تاہم دستیاب مواد میں کوئی تازہ بیان شامل نہیں تھا۔

مکمل رپورٹس کی عدم موجودگی میں اس نتیجے کے پیچھے موجود شواہد کا جائزہ نہیں لیا جا سکا۔ لوی انسٹی ٹیوٹ کا تجزیہ اس سرخی پر مشتمل ہے کہ چین کا گوادر کا منصوبہ ناکام ہو رہا ہے۔ ایف ایم بھارت کی رپورٹ میں بھی صرف سرخی اور ابتدائی جملے تھے، جن میں رپورٹ کے مصنف یا ادارے کا نام نہیں بتایا گیا۔

مکمل تجزیہ دستیاب ہونے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

سلامتیبلوچستان

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے

سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

صحتبلوچستان

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی

وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

سیاستبلوچستان

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا

سلامتیبلوچستان

خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ

پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔