کاٹن جنرز فورم: حکومتی اقدامات سے کپاس شعبے کی مایوسی بڑھ گئی
فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ بھارت نے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات 31 دسمبر تک بڑھا دی ہیں جبکہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے کہا ہے کہ بجلی کے ٹیرف اور مارک اپ کی شرحوں میں اضافے، برآمد کنندگان کی بجائے درآمد کنندگان کو دی جانے والی رعایتوں اور کراپ زوننگ قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث کپاس سے وابستہ حلقوں کی مایوسی بڑھ گئی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنی کاٹن ایکسپورٹس بڑھانے کے لیے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات کی مدت میں مزید دو ماہ کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 31 دسمبر تک بڑھا دیا ہے، تاکہ 2027 سے یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ آزاد تجارت شروع ہونے پر اپنی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق چین نے بھی حیران کن طور پر امریکا سے بڑے پیمانے پر روئی کی خریداری شروع کر دی ہے۔
ایک ہفتے میں مختلف ممالک کے خریداروں نے 2 لاکھ 16 ہزار 500 گانٹھوں کے برآمدی معاہدے کیے، جن میں سب سے زیادہ 52 ہزار 100 گانٹھوں کے معاہدے کے ساتھ چین سرفہرست رہا۔
احسان الحق نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کپاس کی بحالی کے لیے چند اقدامات کرنے جا رہی ہیں، جن میں اپٹما کی سربراہی میں کاٹن بورڈ کا قیام اور کاٹن سیڈ کی درآمد میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا شامل ہے۔ لیکن ان کے بقول کپاس کی تباہی کی سب سے بڑی وجوہات یعنی کاٹن زونز میں گنے کی کاشت اور وہاں نئی شوگر ملز کے قیام پر پابندی کے حوالے سے کوئی اقدام نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے بتایا کہ چین سے اصل نرخوں سے کم قیمت پر کروڑوں میٹر فیبرکس اور لاکھوں ٹن سوتی دھاگے کی مبینہ درآمدات کے باعث مقامی ٹیکسٹائل سیکٹر کے شدید معاشی بحران میں مبتلا ہونے پر نیشنل ٹیرف کمیشن نے پانچ بڑی ٹیکسٹائل شکایات کو درست قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے اور متاثرہ تمام ٹیکسٹائل ملز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی شکایات این ٹی سی کے پاس درج کرائیں۔
چیئرمین فورم کے مطابق معیاری روئی کی محدود دستیابی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی اور خلیج جنگ کے باعث گزشتہ ہفتے ملک میں روئی کی قیمتوں میں مندی رہی اور فی من قیمت میں 100 تا 200 روپے کی کمی ہوئی۔ تاہم 3 نومبر کو کپاس کی مقامی پیداوار کے تازہ اعدادوشمار آنے کے بعد قیمتوں کا واضح رجحان سامنے آ سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان کشیدہ حالات اور سرحدیں سیل ہونے کی وجہ سے افغانستان میں پیدا ہونے والی 10 سے 12 لاکھ گانٹھوں کی درآمدات گزشتہ ایک سال سے معطل ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق افغانستان اب ترکی کو ریل کے ذریعے روئی برآمد کر رہا ہے اور 600 ٹن روئی کا ابتدائی کنسائنمنٹ ترکی روانہ کر دیا گیا ہے۔
ادھر اردو پوائنٹ کی خبر کے مطابق پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری افتخار علی سہو نے کمشنر آفس گوجرانوالہ کا دورہ کیا اور ڈویژنل و ضلعی افسران کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں حکومتی اقدامات پر موثر عملدرآمد اور عوامی ریلیف یقینی بنانے پر بات ہوئی۔ خبر میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔

بائننس نے 6.3 ارب ڈالر کی چوری کی تصدیق کر دی، پاکستانی تاجروں کے فنڈز پھنس گئے
منٹ مرر کے مطابق واقعے کے بعد 48 گھنٹے کے لیے ڈپازٹس اور وڈرالز معطل رہے، جس سے پی ٹو پی تاجر یو ایس ڈی ٹی منتقل نہ کر سکے اور فری لانسرز روپے میں تبدیلی کے منتظر رہے۔

احسن اقبال کا شندور-گلگت روڈ سمیت این ایچ اے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت
منصوبہ بندی کے وزیر نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رکاوٹیں دور کرنے اور ٹھیکیداروں کے مالی دعووں کی جانچ کی ہدایت کی؛ شندور-گلگت روڈ 67.33 فیصد مکمل ہے۔

ہرمز کے قریب پاکستان جانے والا ایل این جی ٹینکر حملے کا نشانہ
نقیلات کا کہنا ہے کہ عملے کے تمام 25 افراد محفوظ ہیں اور جہاز قابو میں ہے، مگر پاکستان نے یہ نہیں بتایا کہ کارگو ملک پہنچے گا یا اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل گیس خریدی جائے گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کو سخت وارننگ دے دی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رائٹرز کو بتایا کہ کابل میں مطلوب کمانڈر پناہ گزین ہیں اور پاکستان افغان سرزمین سے ڈرون خطرات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔