ہرمز کے قریب پاکستان جانے والا ایل این جی ٹینکر حملے کا نشانہ
نقیلات کا کہنا ہے کہ عملے کے تمام 25 افراد محفوظ ہیں اور جہاز قابو میں ہے، مگر پاکستان نے یہ نہیں بتایا کہ کارگو ملک پہنچے گا یا اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل گیس خریدی جائے گی۔

قطر کا ایک ایل این جی ٹینکر جو پاکستان کے لیے گیس لے کر آ رہا تھا، جمعے کے روز آبنائے ہرمز کے قریب نامعلوم اشیاء کی زد میں آ گیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایران کی جانب سے جہاز کی گزرگاہ کی منظوری کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ مارشل آئی لینڈز کے پرچم والے جہاز ایل المیڈا پر حملہ کس نے کیا، یہ ابھی واضح نہیں۔
جہاز قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی، نقیلات، کی ملکیت ہے۔ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق جہاز خلیج میں سفر کے دوران نشانہ بنا اور پھر واپس مڑ گیا۔ نقیلات نے کہا کہ عملے کا کوئی فرد زخمی نہیں ہوا، ماحولیاتی نقصان نہیں ہوا اور جہاز قابو میں ہے جبکہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بلومبرگ نے معاملے سے براہِ راست واقف افراد کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان نے ایرانی حکام کے ساتھ ایل المیڈا کے محفوظ گزرنے پر بات چیت کی تھی، جیسا کہ اس نے پہلے بھی کئی کارگو کے لیے کیا۔
بھارت کے وزیرِ شپنگ سربانند سونووال نے کہا کہ جہاز کو پروجیکٹائل حملے میں نشانہ بنایا گیا اور عملے کے تمام 25 افراد بشمول چھ بھارتی شہری محفوظ ہیں۔ قطر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کہا کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ کارگو اب بھی پاکستان پہنچے گا یا نہیں۔ پاکستان نے اکتوبر میں قطر کے تین کارگو وصول کیے تھے اور ہرمز کے راستے قطری ایل این جی کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے تہران کے ساتھ اپنے تعلقات پر انحصار کیا ہے۔ لیڈ رپورٹ کے مطابق جمعے کا حملہ ایرانی منظوری کے باوجود ہوا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران کی اجازت اب محفوظ گزرگاہ کی ضمانت نہیں۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ کارگو نہ پہنچا تو پاکستان کو اسپاٹ مارکیٹ سے متبادل خریدنا پڑ سکتا ہے، جہاں قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح سے تین گنا سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مہنگی ایل این جی عموماً آر ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور سردیوں میں مانگ بڑھنے پر گھروں اور صنعت کو گیس کی فراہمی پر دباؤ ڈالتی ہے۔
پروپاکستانی کے مطابق اکتوبر میں ہرمز کے راستے ایل این جی کی ترسیل جنگ سے پہلے کے حجم کے تقریباً 30 فیصد پر رہی۔
دستیاب رپورٹس میں ایران کی جانب سے حملے پر کوئی تبصرہ نہیں آیا۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جہاز اپنا سفر کب دوبارہ شروع کر سکے گا یا متبادل کارگو کا انتظام ہوا ہے یا نہیں۔
اس رپورٹ کے سامنے آنے تک پاکستان کے گیس ادارے اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اس کھیپ پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

بائننس نے 6.3 ارب ڈالر کی چوری کی تصدیق کر دی، پاکستانی تاجروں کے فنڈز پھنس گئے
منٹ مرر کے مطابق واقعے کے بعد 48 گھنٹے کے لیے ڈپازٹس اور وڈرالز معطل رہے، جس سے پی ٹو پی تاجر یو ایس ڈی ٹی منتقل نہ کر سکے اور فری لانسرز روپے میں تبدیلی کے منتظر رہے۔

کاٹن جنرز فورم: حکومتی اقدامات سے کپاس شعبے کی مایوسی بڑھ گئی
فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے کہ بھارت نے روئی کی ڈیوٹی فری درآمدات 31 دسمبر تک بڑھا دی ہیں جبکہ پاکستان میں کراپ زوننگ قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔

احسن اقبال کا شندور-گلگت روڈ سمیت این ایچ اے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت
منصوبہ بندی کے وزیر نے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رکاوٹیں دور کرنے اور ٹھیکیداروں کے مالی دعووں کی جانچ کی ہدایت کی؛ شندور-گلگت روڈ 67.33 فیصد مکمل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کو سخت وارننگ دے دی
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رائٹرز کو بتایا کہ کابل میں مطلوب کمانڈر پناہ گزین ہیں اور پاکستان افغان سرزمین سے ڈرون خطرات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔