ڈریپ مکمل ڈیجیٹل، 86 ہزار ادویات رجسٹرڈ: مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت نے کراچی میں صنعتکاروں کو بتایا کہ صارفین موبائل سے دوا کی اصلیت اور قیمت کی تصدیق کر سکتے ہیں، اور قیمتیں مارکیٹ پر چھوڑنے کی تجویز دی۔

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے تحت 86 ہزار سے زائد ادویات رجسٹر ہو چکی ہیں، جس سے صارفین موبائل فون سے پیکٹ اسکین کر کے دوا کی اصلیت اور اس کی قیمت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کراچی میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فارماسیوٹیکل کمپنیاں اپنی ادویات اور مصنوعات آن لائن رجسٹر کر سکتی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ عمل پہلے برسوں میں مکمل ہوتا تھا اور اب 21 دن میں مکمل ہو جاتا ہے۔
وزیر صحت نے بتایا کہ ڈریپ کے سرٹیفیکیشن کے طریقہ کار کو ڈیجیٹل نظام پر منتقل ہوئے آٹھ ماہ ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں 5 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارکردگی پر وزیراعظم نے ڈریپ کو ایوارڈ دیا۔
ادویات کی قیمتوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق صنعت قیمتوں میں اضافہ مانگ رہی ہے اور یہ معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے دو پہلو ہیں: قیمتیں بڑھانے سے عام شہری پر مالی بوجھ پڑے گا، اور قیمتیں نہ بڑھانے سے سنگین امراض کی ادویات کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے مریض مجبوراً وہی دوا کالے بازار سے اصل قیمت سے تین گنا زیادہ پر خریدتے ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو براہ راست قیمتوں کے کنٹرول سے دستبردار ہو کر دیگر مصنوعات کی طرح ادویات کی قیمتیں کھلی مارکیٹ پر چھوڑ دینی چاہئیں۔
کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے تجویز دی کہ ایف بی آر کے چیئرمین کی طرز پر تمام وفاقی وزراء مہینے میں کم از کم ایک بار کراچی آ کر متعلقہ شعبوں کے مسائل سنیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیداواری لاگت خطے میں سب سے زیادہ ہے اور حکومت نے سود کی شرح مزید بڑھا کر صنعت کے مسائل میں اضافہ کیا ہے۔
شیخ عمر ریحان نے کہا کہ کورنگی صنعتی علاقے میں ملک کی فارماسیوٹیکل صنعت کا بڑا حصہ موجود ہے جو قومی شعبے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے وزارت صحت کے ڈریپ کو مکمل ڈیجیٹل کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے صنعت کی مشکلات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال وفاقی سطح پر کراچی کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے کاروباری برادری کو توقع ہے کہ وہ شہر کے مسائل وفاق کے سامنے اٹھائیں گے اور ان کے حل میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

گل پلازہ میں جان دینے والے فائر فائٹر فرقان کے لیے تمغۂ شجاعت منظور
36 سالہ فرقان علی جنوری میں لگی اس آگ میں ملبے تلے دب کر جان سے گئے تھے، جو ایم اے جناح روڈ پر تقریباً 36 گھنٹے تک جلی تھی۔

آڈیٹر جنرل نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی
2024-25 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق بلند و بالا منصوبوں کو فروخت کے این او سی کے بغیر اجازت دی گئی، مشیروں کو منظوری کے بغیر ادائیگیاں ہوئیں اور اہم ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔