مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

گلگت بلتستان کے دیہاتی پانی کے لیے گلیشیئر پیوند کر رہے ہیں

گینگ خسوا نامی قدیم تکنیک میں 4 ہزار میٹر سے بلند مقامات پر نر اور مادہ گلیشیئر کے ٹکڑے دفن کر کے برسوں انتظار کیا جاتا ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
گلگت بلتستان کے دیہاتی پانی کے لیے گلیشیئر پیوند کر رہے ہیں

برازیل کے ٹریبونا ڈی میناس نے یورونیوز کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گلگت بلتستان کے بلند پہاڑی دیہاتوں کے رہائشی نئے گلیشیئر بنانے کے لیے 4 ہزار میٹر سے بلند مقامات تک برف کے ٹکڑے اپنی پیٹھ پر لے جا رہے ہیں۔ مقامی زبان میں اسے گینگ خسوا کہا جاتا ہے اور یہ قدیم دیسی گلیشیئر پیوند کاری کی تکنیک ہے جس کا مقصد کاشتکاری، مویشیوں اور روزمرہ استعمال کے لیے پانی کے نئے ذرائع پیدا کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ برف دو طرح کے روایتی گلیشیئروں سے لی جاتی ہے: ایک "نر" گلیشیئر جس میں مٹی، ریت اور پتھر ہونے کی وجہ سے رنگ سرمئی ہوتا ہے اور دوسرا "مادہ" گلیشیئر جو صاف اور زیادہ پانی پیدا کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔ برف کے یہ ٹکڑے لکڑی کی ٹوکریوں میں رکھ کر رات کے وقت لے جائے جاتے ہیں تاکہ پگھلن کا نقصان کم ہو۔ انہیں پہلے سے تیار کردہ گڑھے یا غار میں رکھا جاتا ہے، درمیان میں دریائے سندھ کے پانی سے بھرے مٹی کے برتن رکھے جاتے ہیں، پھر اوپر چورا، کوئلہ اور خوبانی کی گٹھلیوں کی تہہ بچھا دی جاتی ہے۔ یہ پورا عمل 48 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔

جامعہ بلتستان کے ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ذاکر حسین ذاکر نے یورونیوز کو بتایا کہ جگہ کم از کم 4 ہزار میٹر بلند ہونی چاہیے، وہاں پرما فراسٹ زیادہ، سورج کی شعاعیں کم اور ہوا کا رخ تیز ہونا چاہیے۔ شمال کی طرف ڈھلوانیں زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ دفن کرنے کے بعد برف کو کئی برفباری کے موسموں سے گزرنا پڑتا ہے۔ رپورٹ میں شامل ماہرین کے مطابق نئے گلیشیئر کو ٹھوس شکل اختیار کرنے اور پانی دینا شروع کرنے میں تقریباً دس سال لگتے ہیں اور قابل اعتماد ذریعہ بننے میں مزید دس سال درکار ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تکنیک 1990 کی دہائی میں دوبارہ شروع ہوئی لیکن ممکنہ طور پر 14ویں صدی تک پرانی ہے اور زبانی روایت کے مطابق فارسی صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانی سے منسلک ہے۔ بلتستان کلچر اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نذیر احمد نے بتایا کہ یہ علم زبانی طور پر منتقل ہوا۔ 2025 میں فاؤنڈیشن کو برطانوی حکومت کی مالی معاونت ملی جس کے بعد بلتستان کے دیہاتوں میں دس گلیشیئر پیوند کیے گئے، چھ برف کے مینار بنائے گئے اور جامعہ بلتستان میں ایک نباتاتی باغ قائم کیا گیا۔ مالی معاونت سے پہلے فاؤنڈیشن ایک منصوبے میں 200 کلو برف منتقل کر سکتی تھی، اب وہ ایک آپریشن میں ایک ٹن سے زیادہ منتقل کرتی ہے۔

یورونیوز کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 3,044 گلیشیائی جھیلیں شناخت کی گئی ہیں جن میں سے 33 خطرناک قرار دی گئی ہیں کیونکہ ان سے اچانک سیلاب آ سکتا ہے۔ پاکستان عالمی اخراج کا ایک فیصد سے بھی کم پیدا کرتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہے۔ نوجوانوں کے اقدام سیاچن شیرپا کے رہنما ذیشان عباس کے مطابق نوجوان تعلیم اور ملازمت کے لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد جا رہے ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ نئی نسل روایتی علم کو جی پی ایس اور سیٹلائٹ تصاویر کے ساتھ جوڑ سکتی ہے۔

سیاستگلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں 79واں یومِ آزادی، دس اضلاع میں تقریبات اور پریڈ

گورنر سید مہدی شاہ نے گلگت کے چنار باغ میں پرچم کشائی کی اور دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے حالیہ جھڑپوں میں سات سے زائد بھارتی طیارے مار گرائے۔

سیاستگلگت بلتستان

گلگت بلتستان میں یومِ آزادی، گورنر اور وزیرِ اعلیٰ نے پرچم لہرایا

چنار باغ گلگت کی شہداء یادگار پر تقریب ہوئی، گورنر سید مہدی شاہ نے کہا آزادی کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے

موسم و الرٹگلگت بلتستان

ملک بھر میں خشک موسم، شمالی پہاڑوں پر برفباری کا امکان

گزشتہ 24 گھنٹوں میں سکردو کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت صفر ڈگری رہا، جو محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار میں لیہہ کے منفی 3 ڈگری کے بعد سب سے کم ہے۔

ترقیگلگت بلتستان

شمالی پاکستان میں بجلی کے چولہوں سے لکڑی کے اخراجات 60 فیصد کم، اے کے آر ایس پی

ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے ایک سال میں 50,000 سبسڈی والے چولہے تقسیم کیے، مگر رپورٹ میں اضلاع، فی چولہ قیمت یا بجلی کے بل کی تفصیل نہیں دی گئی۔