جی آئی زیڈ سندھ کی 300 صنعتوں کو ماحولیاتی معیار پر معاونت دے گا
سندھ کے سیکرٹری ماحولیات فیصل احمد اوکائلی کا کہنا ہے کہ ایس ای پی اے صرف قانون نافذ کرنے تک محدود نہیں رہے گا، صنعتوں کو رہنمائی اور سہولت بھی دی جائے گی۔

کراچی: جرمن ترقیاتی ادارہ جی آئی زیڈ (GIZ) سندھ کی 300 چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرے گا تاکہ وہ ماحولیاتی معیارات پر پورا اتر سکیں، صنعتی آلودگی کم کر سکیں اور گرین فنانسنگ تک رسائی حاصل کر سکیں۔ یہ خبر بزنس ریکارڈر نے شائع کی۔
جی آئی زیڈ پاکستان کے ”بہتر حکمرانی اور کاروباری ماحول“ منصوبے کی پروجیکٹ ڈائریکٹر جولیا بازینووا نے یہ منصوبہ سندھ کے سیکرٹری برائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی فیصل احمد اوکائلی کے ساتھ ایک ملاقات میں پیش کیا۔
ملاقات کا مقصد ایس ایم ایز کو ماحولیاتی ضوابط کی تعمیل میں مدد دینے، ان کی کارکردگی بہتر بنانے اور ماحول دوست کاروباری طریقے اپنانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔ اس منصوبے کے تحت جی آئی زیڈ تکنیکی جائزے کرے گا، مشاورتی خدمات فراہم کرے گا اور کاروباروں کو ماحول دوست سرمایہ کاری کے لیے مالی اداروں تک رسائی میں مدد دے گا۔ پروگرام کے ذریعے کاروباروں کی مخصوص ضروریات بھی معلوم کی جائیں گی اور ماحولیاتی تعمیل پر عملی رہنمائی تیار کی جائے گی۔
سیکرٹری فیصل احمد اوکائلی نے کہا کہ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ایس ای پی اے) کا کردار محض ماحولیاتی قوانین نافذ کرنے اور خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی تک محدود نہیں۔ صنعتی اداروں کو ماحولیاتی تقاضے پورے کرنے کے لیے رہنمائی اور سہولت کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ ماحولیات کاروباروں کے ساتھ مل کر ان کے مسائل سمجھے گا اور قابلِ عمل حل تلاش کرے گا، جبکہ ایس ای پی اے اور جی آئی زیڈ کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان قریبی رابطہ کاری سے ماحولیاتی معیارات پر عملدرآمد بہتر ہوگا۔
سیکرٹری نے یہ بھی بتایا کہ محکمے کے تقریباً 70 فیصد امور ڈیجیٹل کیے جا چکے ہیں اور مزید اصلاحات کے تحت ماحولیاتی انسپکٹرز کے دوروں کی جیو ٹیگنگ، آن لائن ادائیگیوں اور نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) کی کارروائی کے لیے ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جائیں گے۔
جولیا بازینووا نے محکمے کے تعاون کو خوش آئند قرار دیا اور تکنیکی ٹیموں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور رابطہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی جائزے، ضرورت کے مطابق مشاورت اور گرین فنانسنگ تک رسائی ایس ایم ایز کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی ماحولیاتی تقاضے پورے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ملاقات میں ماحولیاتی نگرانی کو بہتر بنانے، محکمے کے افسران اور انسپکٹرز کی تربیت، لیبارٹری کی صلاحیت بڑھانے اور صاف ستھرے صنعتی طریقوں کو فروغ دینے پر بھی بات ہوئی۔ ملاقات میں ایس ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عاشق علی لانگا، جی آئی زیڈ کے تکنیکی مشیران، ماحولیاتی مشیر نعمان شیخ اور اطلاعات افسر مراد وحید بھی موجود تھے۔
شرکاء نے اتفاق کیا کہ کاروباروں میں موثر ماحولیاتی تعمیل کے لیے ایک مربوط حکمت عملی درکار ہے جس میں ضابطوں پر عملدرآمد، تکنیکی رہنمائی، تربیت اور مالی معاونت شامل ہوں۔ اس تعاون سے ایس ایم ایز کو تعمیل بہتر بنانے اور زیادہ پائیدار کاروباری سرگرمیوں کی طرف بڑھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔