حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پانچ سال کی حد ختم کر دی
وزارت تجارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق 30 اکتوبر 2026 سے کمرشل درآمد پر یہ پابندی ہٹ گئی، جبکہ 50 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور معائنے کی شرط برقرار ہے۔

وفاقی حکومت نے تجارتی بنیاد پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پانچ سال کی عمر کی شرط ختم کر دی ہے، جس کے بعد درآمد کنندگان پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیاں بھی ملک میں لا سکیں گے۔ وزارت تجارت نے اپنے نوٹیفکیشن میں کہا کہ یہ پابندی 30 اکتوبر 2026 سے ہٹا دی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد درآمدی پالیسی کی شرائط کے تابع رہے گی اور ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد لازمی ہو گا۔
یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نئی آٹو پالیسی کی منظوری کے بعد سامنے آیا ہے، جو اب حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ پالیسی میں مقامی آٹو انڈسٹری میں مسابقت بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور ملکی گاڑی سازی کی برآمدی صلاحیت بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔
آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس سے پہلے بیرون ملک مقیم پاکستانی بیگیج، ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ سکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی گاڑی درآمد کر سکتے تھے۔ حکومت نے 2025 میں بیگیج سکیم کے تحت درآمد پر پابندی لگا دی تھی جبکہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ سکیم برقرار رکھی گئی تھی۔
شہزاد کے مطابق ٹرانسفر آف ریزیڈنس کے تحت گاڑی لانے میں بڑا مسئلہ یہ تھا کہ زیادہ تر بیرون ملک مقیم پاکستانی مشرق وسطیٰ میں رہتے ہیں جہاں بائیں ہاتھ کی ڈرائیو والی گاڑیاں ہوتی ہیں، جبکہ پاکستان میں دائیں ہاتھ کی ڈرائیو رائج ہے۔
مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں کمرشل درآمد کی اجازت دی گئی تھی لیکن سخت شرائط کے باعث گزشتہ ڈیڑھ سال میں عملاً کوئی گاڑی درآمد نہیں ہو سکی۔ نئے نوٹیفکیشن میں کمرشل درآمد سے متعلق بعض شرائط نرم کی گئی ہیں۔
شہزاد نے بتایا کہ گفٹ سکیم میں یہ شرط برقرار ہے کہ اس کے تحت آنے والی گاڑی پاکستان پہنچنے کے بعد ایک سال تک کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں کی جا سکے گی۔ ان کے مطابق درآمدی گاڑی حادثہ زدہ یا چوری شدہ نہیں ہونی چاہیے اور درآمد سے پہلے معائنہ اور پاکستان پہنچنے کے بعد دوبارہ معائنہ لازمی ہے۔ کمرشل درآمد کنندگان کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے ساتھ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ میں بھی رجسٹریشن کرانا ہو گی، اور اگر کسی کے پاس اپنی ورکشاپ اور سپیئر پارٹس کی سہولت نہ ہو تو وہ ایسی سہولیات رکھنے والے ادارے سے معاہدہ کر سکتا ہے۔
آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین کامران خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اب اگرچہ پرانی گاڑیاں بھی درآمد ہو سکیں گی، انہوں نے درآمد کنندگان کو زیادہ سے زیادہ دس سال پرانی گاڑی لانے کی ہدایت کی ہے تاکہ پری انسپکشن اور دیگر شرائط آسانی سے پوری ہو سکیں۔
شہزاد کے مطابق کمرشل درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ گفٹ سکیم کے تحت یہی ڈیوٹی 20 فیصد ہے۔ یہ شرح ہر سال 10 فیصد کم کی جائے گی، جس سے آئندہ پانچ سال کے دوران درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
کامران خان کا کہنا ہے کہ صارفین کو فائدہ ہو گا۔ مثال کے طور پر مقامی طور پر بننے والی 660 سی سی گاڑی کی قیمت میں صارف کو دس سال پرانی مگر زیادہ آرام دہ اور بڑے انجن والی درآمدی گاڑی مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمد کنندگان کا اپنا کاروبار ہے اور وہ بھی کمائی کے لیے کام کرتے ہیں، تاہم صارفین کو بھی بہتر گاڑی ملے گی۔
آٹو سیکٹر کے ماہر مشہود علی خان نے کہا کہ حکومت کو توقع ہے کہ مسابقت بڑھنے سے صارفین کو کم قیمت پر گاڑیاں ملیں گی، تاہم اس پالیسی کے ممکنہ اثرات پر تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مجوزہ پالیسی میں مارکیٹ کی مجموعی گنجائش یا درآمدی گاڑیوں کی تعداد محدود کرنے کا کوئی واضح طریقہ کار نظر نہیں آتا، جس سے ضرورت سے زیادہ فراہمی کا خدشہ ہے اور اس سے مقامی اسمبلرز اور استعمال شدہ گاڑیوں کے درآمد کنندگان دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تین سال بعد سروسنگ، مرمت اور پرزہ جات کی تبدیلی میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، بعض گاڑیوں کے پرزے بازار میں نہیں ہوں گے جبکہ کچھ انتہائی مہنگے داموں ملیں گے۔

حکومت نے پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پانچ سال کی عمر کی شرط ختم کر دی
وزارتِ تجارت نے ایف بی آر کو بتایا کہ 30 جون کے بعد کی تجارتی درآمدات پر یہ پابندی لاگو نہیں، جبکہ 40 فیصد اضافی ڈیوٹی بدستور برقرار رہے گی۔
پاما کا گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر نظرثانی کا مطالبہ
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ہارون اختر کو لکھے خط میں کہا ہے کہ مئی میں 7 گاڑیوں سے بڑھ کر ستمبر میں 2,238 گاڑیاں درآمد ہوئیں، جس سے مقامی مینوفیکچرنگ متاثر ہو رہی ہے۔

فوجی فاؤنڈیشن نے پرل کانٹی نینٹل کی مالک کمپنی میں 6.55 ارب روپے کا حصہ خرید لیا
فاؤنڈیشن نے 2 نومبر کو 1,022.42 روپے فی شیئر کی قیمت پر 6,406,797 ووٹنگ شیئرز خریدے، جو ٹھٹھہ سیمنٹ کی گزشتہ سال کی قیمت سے تقریباً 44 فیصد زیادہ ہیں۔

پاکستان کو جی ایس پی پلس کے لیے دوبارہ درخواست دینی ہوگی: جرمن سفیر
انا لیپل کا کہنا ہے کہ یورپی یونین نے گزشتہ موسم سرما کے دورے کے بعد جولائی میں تعمیل کی رپورٹ شائع کی، اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 2017 سے تقریباً 3.5 ارب یورو سالانہ پر رکی ہوئی ہے۔

گلانی کا پانی کے تحفظ کے لیے قانون سازی، نگرانی اور فنڈز کا عہد
سینیٹ کے چیئرمین نے اسلام آباد میں پاکستان واٹر ویک 2026 کے افتتاح پر کہا کہ صوبائی آبی قوانین پر مکمل عمل درآمد اور زمینی پانی کے اخراج پر ضابطے ضروری ہیں

ریفائنریز ماہانہ 15 ارب روپے کا بوجھ اٹھائیں گی، پٹرول 15 روپے سستا
پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک اور اطلاعات کے وزیر عطاء اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا، عرب نیوز پاکستان کے مطابق ریفائنریز ماہانہ 54 ملین ڈالر برداشت کریں گی۔

پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو ایڈرین ہیملٹن مینز نے چارج سنبھال لیا
سابق سلام ایئر سربراہ نے ایئر وائس مارشل عامر حیات کی جگہ لی، جو ساڑھے چار سال تک قومی ایئرلائن کے سربراہ رہے اور اسے نجکاری کے لیے تیار کیا۔

پیٹرول 15 روپے سستا ہو سکتا ہے، بوجھ ریفائنریوں پر منتقل
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ نئے فارمولے سے ریفائنریوں پر ایک ماہ میں 15 ارب روپے کا بوجھ آئے گا، ریفائنریاں مشاورت نہ ہونے پر تحفظات رکھتی ہیں۔