مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سپریم کورٹ نے سابق آئی بی ملازم کی اپیل مسترد کر دی

جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جواد عباسی کی کمپلسری ریٹائرمنٹ برقرار رکھی اور کہا کہ خاتون کی عزت کا احترام آئینی ذمہ داری ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
سپریم کورٹ نے سابق آئی بی ملازم کی اپیل مسترد کر دی
تصویر: Business Recorder

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ایک سابق ملازم کی کمپلسری ریٹائرمنٹ کے خلاف اپیل مسترد کر دی ہے اور قرار دیا ہے کہ خاتون کی عزت کا احترام محض ذاتی اخلاق کا معاملہ نہیں بلکہ ایسی ذمہ داری ہے جس کی تعمیل ریاست اپنے ہر ملازم سے توقع کر سکتی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس شاہد وحید بھی شامل تھے، نے جواد عباسی کی اپیل خارج کی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق عباسی آئی بی میں باورچی کے عہدے پر تعینات تھے اور محکمانہ کارروائی میں یہ الزام ثابت ہوا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو آگ لگائی تھی۔ ان پر بدتمیزی اور تیز مزاجی کے الزامات بھی تھے۔

یہ کارروائی سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت چلائی گئی اور 14 جون 2024 کو انہیں کمپلسری ریٹائرمنٹ کی سزا دی گئی۔ ان کی محکمانہ اپیل مسترد ہو گئی اور فیڈرل سروس ٹریبونل نے 15 جنوری کے حکم میں کمپلسری ریٹائرمنٹ برقرار رکھتے ہوئے ان کی اپیل خارج کر دی۔ فوجداری مقدمے میں نچلی عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔

جسٹس شاہد وحید نے فیصلہ تحریر کیا۔ انہوں نے قرار دیا کہ سرکاری ملازم کے کردار کا اندازہ صرف اس کے سرکاری فرائض کی انجام دہی سے نہیں لگایا جاتا۔ اس کا کردار، دیانت اور نجی زندگی کا رویہ بھی اہمیت رکھتا ہے جب یہ عوامی عہدے پر فائز رہنے کی اہلیت، سروس کے نظم و ضبط یا ادارے پر عوام کے اعتماد سے جڑا ہو۔ ڈان کے مطابق عدالت نے کہا کہ ڈیوٹی کے اوقات سے باہر کا سنگین طرز عمل نا مناسب رویہ قرار پا سکتا ہے اور فوجداری مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی کے نتائج کو ختم نہیں کرتی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا: ”خاتون کی عزت، خواہ وہ بیوی ہو، بہن، بیٹی، ماں یا ہم وطن، ایک بنیادی قدر ہے جس کا تحفظ آئین کرتا ہے۔“ فیصلے میں مزید کہا گیا: ”اس عزت کا احترام محض ذاتی اخلاق کا معاملہ نہیں، یہ ایسی ذمہ داری ہے جس کی توقع ریاست اپنے ہر ملازم سے کرنے کی حق دار ہے۔“

جسٹس شاہد وحید نے لکھا: ”گھر کی دیواریں دائرہ اختیار کی کوئی حد نہیں ہیں، اور تشدد بند دروازے کے پیچھے ہونے سے نجی معاملہ نہیں بن جاتا۔“ انہوں نے کہا کہ ”آگ گھر کے اندر جلنے سے خاندانی معاملہ نہیں بن جاتی۔“

فیصلے میں کہا گیا کہ الزام کسی جھگڑے یا تلخ کلامی کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ درخواست گزار نے اپنی بیوی کو آگ لگائی، جو اگر ثابت ہو تو ایک انسان کا دوسرے پر کیا جانے والا بدترین تشدد ہے۔ عدالت نے اسے ”ازدواجی زندگی کا کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ زندگی اور انسانی عزت پر حملہ“ قرار دیا۔

عدالت نے آئین کے آرٹیکل 25(3) کا حوالہ دیا جو خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظام کی اجازت دیتا ہے، اور اس کے تحت بنائی گئی قانون سازی، جن میں پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016 اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے لیے ڈومیسٹک وائلنس (پریونشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2020 شامل ہیں۔ فیصلے کے مطابق پاکستان کنونشن آن دی ایلیمینیشن آف آل فارمز آف ڈسکریمینیشن اگینسٹ ویمن (سیڈا) کا بھی فریق ہے، جس کے تحت خواتین کے خلاف تشدد امتیاز کی ایسی شکل ہے جسے ختم کرنے کے لیے ریاست کو اقدام کرنا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا: ”گھروں میں خواتین کو جلانا، جسے اکثر باورچی خانے یا چولھے کا حادثہ یا خودکشی کی کوشش بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے، اس ملک میں ایک سنگین اور بار بار سامنے آنے والی سماجی برائی ہے۔“

رپورٹوں میں فرق

ڈان نے عدالت کے اس اعلان کو نمایاں کیا کہ خاتون کی عزت کا احترام آئینی ذمہ داری ہے اور اپنی سرخی اسی پر لگائی، مگر اپنی اسٹینڈ فرسٹ میں اپیل کنندہ کا نام نہیں لیا۔ ڈان نے یہ بات بھی بتائی کہ ڈیوٹی کے اوقات سے باہر کا سنگین طرز عمل نا مناسب رویہ قرار پا سکتا ہے اور فوجداری مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی کے نتائج کو ختم نہیں کرتی۔ بزنس ریکارڈر نے اپیل کنندہ جواد عباسی کا نام لیا، انہیں آئی بی کا باورچی بتایا اور پوری قانونی ترتیب بیان کی: فیڈرل سروس ٹریبونل کا 15 جنوری کا حکم، 14 جون 2024 کی سزا اور نچلی عدالت کی بریت، نیز فیصلے میں آرٹیکل 25(3)، پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016، اسلام آباد کے ڈومیسٹک وائلنس قانون 2020 اور سیڈا کا حوالہ بھی شامل کیا۔

سیاست

بیوی پر تشدد بھی سروس کی بدعنوانی قرار: سپریم کورٹ

عدالت نے انٹیلیجنس بیورو کے ملازم کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ فوجداری مقدمے میں بریت سے محکمانہ کارروائی خودبخود ختم نہیں ہوتی۔

سیاست

وفاقی آئینی عدالت نے خود کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند نہیں قرار دیا

چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں دو رکنی بینچ جمعرات کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کے خلاف 48 درخواستوں کی سماعت کرے گا

سیاست

فیڈرل آئینی عدالت کا سپریم کورٹ بینچ کے طریقۂ کار پر سخت تحفظات کا اظہار

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ریویو پٹیشنز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انکم سپورٹ لیوی سے متعلق سپریم کورٹ کا 28 دسمبر 2021 کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

معیشت

آئینی عدالت نے لیوی فیصلے کے خلاف 1,178 درخواستیں مسترد کر دیں

وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 پر سپریم کورٹ کے 28 دسمبر 2021 کے فیصلے کو برقرار رکھا، تاہم دستیاب رپورٹوں میں عدالت کی وجوہات یا بنچ کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

سیاست

سینیٹ کمیٹی کا وزیراعظم کے اقوام متحدہ دورے اور ایران امریکہ تنازعے پر بریفنگ کا مطالبہ

قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ نے ایچ ای سی، نادرا اور وزارت خارجہ کو اگلے اجلاس میں integrated ای اٹیسٹیشن نظام کا جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

معیشترپورٹوں میں فرق

سردیوں میں ایل پی جی فراہمی کی یقین دہانی، سلنڈر دوگنی قیمت پر فروخت

علی پرویز ملک کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب، ایرانی سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے سپلائی متاثر؛ اسحاق دار کی جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات

معیشترپورٹوں میں فرق

حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا جماعت اسلامی کا مطالبہ مسترد کر دیا

لیاقت بلوچ کے مطابق اسحاق دار کے ساتھ مذاکرات میں کسانوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور بعض گاڑیوں کو ایندھن میں ریلیف دینے پر اتفاق ہوا، لیوی ختم کرنے کا کوئی وعدہ نہیں ہوا۔

سلامتی

پاکستان نے پہلے مقامی فضاسےفضا میزائل فاز کا کامیاب تجربہ کر لیا

آئی ایس پی آر کے مطابق میزائل جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے اور طویل فاصلے سے فضائی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے پاک فضائیہ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔