دکی میں کیمپ پر حملہ، 11 مزدور اغوا
پولیس کے مطابق اغوا کیے گئے نو مزدوروں کا تعلق پنجاب اور دو کا مقامی علاقے سے ہے جبکہ ایک گارڈ کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔

بلوچستان کے ضلع دکی کے علاقے پلڑی میں جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر مسلح افراد نے حملہ کیا، 11 مزدوروں کو اغوا کر لیا اور مشینری کو آگ لگا دی۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق پولیس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حملہ آوروں کا کیمپ کے نجی سکیورٹی گارڈز سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں کیمپ کا ایک گارڈ مارا گیا اور دو افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق اغوا کیے گئے مزدوروں میں سے نو کا تعلق پنجاب اور دو کا مقامی علاقے سے ہے۔
آج نیوز نے اپنی رپورٹ میں دکی کے علاوہ ڈیرہ بگٹی میں بھی حملوں کا ذکر کیا۔ اس کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں ضلع کونسل کے چیئرمین وڈیرہ غلام نبی شمبھانی کی رہائش گاہ پر مسلح دہشت گردوں نے حملہ کیا جس کا بگٹی امن فورس نے جواب دیا۔ فرار ہونے کی کوشش میں 13 دہشت گرد مارے گئے، ایک امن فورس اہلکار شہید اور تین زخمی ہوئے، جنہیں فوری طبی امداد کے لیے کراچی منتقل کیا گیا۔ اسی ضلع میں ایک نجی کمپنی کے کیمپ پر حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں نے چار دہشت گرد ہلاک کیے، ایک امن فورس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے۔
آج نیوز کے مطابق دکی میں حملہ آور کیمپ میں موجود تمام تعمیراتی مشینری جلا کر 11 مزدوروں کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لے گئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقوں کی ناکہ بندی کر کے مغویوں کی بازیابی اور ملزمان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔
انڈیپنڈنٹ اردو نے لکھا کہ دکی اور ہرنائی کے علاقے کوئلے کے ذخائر رکھتے ہیں اور کئی سال سے مسلح حملوں کی زد میں ہیں۔ کالعدم تنظیم کے مسلح گروہ کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کو نذر آتش کرتے ہیں اور مزدوروں کو اغوا بھی کرتے ہیں۔ بار بار کے حملوں سے کوئلے کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں مزدور علاقے میں جانے سے گریزاں ہیں۔ کوئلے کے مالکان کا کہنا ہے کہ سینکڑوں لیز بند ہو چکی ہیں اور ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بلوچستان کے کوئلہ پیدا کرنے والے علاقوں میں سیکیورٹی خدشات پہلے ہی بڑھے ہوئے ہیں اور تعمیراتی کمپنیاں اپنا کام معطل کرنے پر مجبور ہیں۔
ویڈیو

بلوچستان کے وزیراعلیٰ: آئین کی حدود میں بات چیت کا دروازہ کھلا ہے
سرفراز بگٹی نے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ ردالفِتنہ 3 کے تحت کارروائیاں امن کے لیے ضروری ہیں۔

بلوچستان: 72 مزید ڈاکٹر برطرف، کل تعداد 200 ہو گئی
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کٹوتی اور 11 ہزار کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے 102 ملازمین کی برطرفی کی خبر دی۔

اے این پی کا اچکزئی کی گرفتاری پر 6 نومبر کو کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمال الدین رشتیہ نے الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا، کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، قانون دانوں اور تاجر تنظیموں کو باقاعدہ مدعو کیا جائے گا
خاران میں سکیورٹی فورسز نے 5 ڈرونز مار گرائے، رپورٹ
پاکستان کنیکٹ نے اسے بی ایل اے کے حملے کی ناکامی قرار دیا، جبکہ دوسرے آؤٹ لیٹ نے جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے کو ناکام بنانے کی خبر دی؛ کسی بیان کی سرکاری تصدیق نہیں۔