حیدرآباد: 1936 کی تاریخی عمارت کا انہدام روک دیا گیا
محکمہ ثقافت سندھ نے فروری 2025 میں عمارت کو ورثے کے تحفظ کے لیے تجویز کیا تھا، مگر تکنیکی کمیٹی کی حتمی منظوری اب تک نہیں آئی۔

حیدرآباد کی ضلعی انتظامیہ نے فوجداری روڈ کے قریب 1936 میں تعمیر ہونے والی 90 سال پرانی عمارت کا انہدام روک دیا ہے۔ تاہم اس سے قبل عمارت کا کچھ حصہ مسمار کیا جا چکا تھا۔ یہ اطلاع پروپاکستانی نے دی ہے، جس کے مطابق سٹی اسسٹنٹ کمشنر نور حسین موقع پر پہنچ کر کام روکا۔ ڈان نے بھی 1936 کی اس عمارت کا انہدام روکنے کی خبر شائع کی ہے۔
محکمہ ثقافت سندھ نے فروری 2025 میں اس عمارت کو ورثے کے تحفظ کے لیے تجویز کیا تھا، مگر اسے اب تک باضابطہ طور پر محفوظ ورثہ قرار نہیں دیا گیا۔ یہ تجویز ابھی سندھ کلچرل ہیریٹیج کی تکنیکی کمیٹی کے پاس زیر التوا ہے، جس نے عمارت کی حیثیت پر حتمی فیصلہ کرنا ہے۔
محکمہ ثقافت نے اپنی سفارش میں عمارت کے تعمیراتی خصائص کا حوالہ دیا تھا، جن میں کندہ شدہ پتھر کے کام والی ابھری ہوئی بالکنیاں اور لکڑی کے پینل لگائی گئی بڑی کھڑکیاں شامل ہیں۔ اسی جائزے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ عوام کی ممکنہ حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے عمارت کی مرمت کی ضرورت ہے۔
جزوی انہدام کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نے عمارت پر ملکیت کا دعویٰ کرنے والے افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ تین دن کے اندر ملکیت کی دستاویزات، اجازت نامے اور دیگر متعلقہ منظوریاں پیش کریں۔
محکمہ ثقافت کے شعبہ نوادرات و آثارِ قدیمہ نے بھی غیر مجاز انہدام پر الگ نوٹس جاری کیا اور عمارت کے مالک کو 2 نومبر کو محکمے کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی۔
محکمے کے مطابق اس کام سے سندھ کلچرل ہیریٹیج (پریزرویشن) ایکٹ 1994 کی دفعہ 10(i) کی خلاف ورزی ہوئی ہے، کیونکہ انہدام سے قبل اجازت نہیں لی گئی تھی۔ مالک کو حکم دیا گیا ہے کہ موقع پر ہر قسم کی کارروائی روک دی جائے، بصورت دیگر قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو کہا گیا ہے کہ جب تک تکنیکی کمیٹی عمارت کی حیثیت پر حتمی فیصلہ نہیں کرتی، وہ اس جائیداد پر کسی انہدام یا تعمیر کی منظوری نہ دے۔
اس معاملے کا رخ محکمے کی سفارش اور باقاعدہ تحفظ کے درمیانی وقفے کی طرف اشارہ کرتا ہے: کوئی جائیداد فہرست میں تجویز ہونے سے ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتی جب تک کمیٹی اسے منظور نہ کرے، اور اس دوران انتظامی حکم کے بغیر انہدام جاری رہ سکتا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔