حیدرآباد کی نئی سڑک کے بیچ بجلی کے کھمبے، عوام ناراض
میئر کے ترجمان کے مطابق 162 کھمبے منتقل کیے جائیں گے اور 27 فیڈرز میں سے 10 ہٹائے جا چکے ہیں، سڑک نومبر کے آخر تک کھلنے کی توقع ہے۔

حیدرآباد میں نئی پختہ کی گئی سڑک کے عین درمیان بجلی کے کھمبے کھڑے ہیں، جس کی وجہ سے گاڑیوں کو ان کے گرد گھوم کر گزرنا پڑتا ہے۔ عالمدار چوک سے پرانی قومی شاہراہ تک اس سڑک کی ویڈیو اس ہفتے سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی۔
یہ سڑک قاسم آباد کو حیدرآباد شہر سے جوڑتی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک کے بیچ میں لگے کھمبوں کے درمیان سے ٹریفک گزر رہی ہے۔ صارفین نے اس پر سینکڑوں تنقیدی اور طنزیہ تبصرے کیے، کچھ نے کھمبوں کے درمیان بچتے ہوئے گاڑی چلانے کو ویڈیو گیم سے تشبیہ دی اور کچھ نے منظر کو انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیا۔
پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے یہ ویڈیو ایکس پر شیئر کی اور صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس سڑک کو حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی مثال قرار دیا اور منصوبے کی منصوبہ بندی پر سوال اٹھایا۔ یہ بات پروپاکستانی اور اے آر وائی نیوز دونوں نے رپورٹ کی۔
تنقید کے بعد حیدرآباد کے میئر کاشف علی شورو کے ترجمان نے کہا کہ سڑک پر کام ابھی مکمل نہیں ہوا اور کھمبے منتقل کرنے کا کام جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق منصوبے میں کل 162 بجلی کے کھمبے منتقل کیے جانے ہیں، اور اس سے منسلک 27 فیڈرز میں سے 10 پہلے ہی ہٹائے جا چکے ہیں جبکہ باقی ڈھانچے پر کام جاری ہے۔
میئر کے دفتر نے شہریوں سے کہا کہ وہ سڑک اس وقت تک استعمال نہ کریں جب تک تعمیر مکمل نہ ہو جائے اور اسے باضابطہ طور پر ٹریفک کے لیے نہ کھول دیا جائے۔ پروپاکستانی کے مطابق توقع ہے کہ سڑک نومبر کے آخر تک مکمل ہو کر عوام کے لیے کھول دی جائے گی۔
دونوں ذرائع ابلاغ نے سڑک کی نوعیت بیان کرنے میں معمولی فرق رکھا: پروپاکستانی نے اسے نئی تعمیر شدہ اور نئی پختہ کی گئی سڑک کہا، جبکہ اے آر وائی نیوز نے اسے زیرِ تعمیر سڑک قرار دیا۔ کھمبوں اور فیڈرز کے اعداد و شمار دونوں نے میئر کے ترجمان کے حوالے سے ہی دیے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کھمبے سڑک پختہ کرنے سے پہلے ہی موجود تھے اور کام شروع کرنے سے قبل انہیں منتقل نہیں کیا گیا۔ شکایات کا رخ خود کھمبوں کے بجائے منصوبے کی ترتیب کی طرف تھا، اور لوگوں نے پوچھا کہ سڑک اور بجلی کے ڈھانچے کا کام ایک ساتھ کیوں نہیں کیا گیا۔
حیدرآباد کے میونسپل حکام نے ترجمان کے بیان کے علاوہ کوئی تحریری بیان جاری نہیں کیا۔ رپورٹس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ باقی 152 کھمبے کب منتقل کیے جائیں گے اور کام مکمل ہونے تک سڑک پر ٹریفک کا انتظام کیسے ہوگا۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔