کراچی آئی ٹی پارک 15 ہزار ملازمتیں پیدا کرے گا
جناح ایئرپورٹ کے قریب 186.7 ملین ڈالر کی سہولت زیر تعمیر ہے اور اس سے 100 ملین ڈالر کی آئی سی ٹی برآمدات متوقع ہیں۔

کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب طویل عرصے سے زیر التوا انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک اب زیر تعمیر ہے اور اس سے تقریباً 15 ہزار ملازمتیں پیدا ہونے کے ساتھ سالانہ 100 ملین ڈالر تک کی آئی سی ٹی برآمدات متوقع ہیں۔ ٹیک جوس نے یہ اطلاع دی۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) اس منصوبے کو تیار کر رہا ہے۔ سپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) نے اسے زیر تعمیر منصوبوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جس کا احاطہ چھ ایکڑ پر تقریباً 1.145 ملین مربع فٹ ہے۔
اس پارک میں کارپوریٹ دفاتر، انکیوبیشن اور کو ورکنگ اسپیس، ڈیٹا سینٹر، تحقیق اور جانچ کی سہولیات، انوویشن ہب اور یونیورسٹی و صنعت کے اشتراک کے علاقے شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، آئی ٹی سے منسلک خدمات، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، فِن ٹیک اور ڈیٹا اینالیٹکس میں کام کرنے والی کمپنیوں کو جگہ فراہم کرنا ہے۔
حکومتی دستاویزات میں اس منصوبے کو 11 منزلہ عمارت قرار دیا گیا تھا جس میں آٹھ منزلیں زمین کے اوپر اور تین زیر زمین ہوں گی۔ کل منظور شدہ لاگت 186.658 ملین ڈالر ہے، جس کے لیے کورین فنڈنگ اور پاکستان کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے مالی اعانت فراہم کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے سوشل میڈیا پر اس منصوبے کو اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ای پاکستان کا اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کیمپس تقریباً 1.18 ملین مربع فٹ پر محیط ہوگا اور اس میں 220 دفاتر اور 30 اسٹارٹ اپ اسپیسز شامل ہوں گی، جو ایس ٹی زیڈ اے کی درج فہرست سے قدرے زیادہ ہے۔
کراچی آئی ٹی پارک سے 100 ملین ڈالر تک کی آئی سی ٹی برآمدات متوقع ہیں۔ حکومت کے ابتدائی اندازوں میں 20 ہزار سے زائد آئی ٹی ماہرین کے لیے ملازمتوں کی پیش گوئی کی گئی تھی، تاہم موجودہ تخمینہ تقریباً 15 ہزار ملازمتیں ہیں۔
اس منصوبے کو تاخیر کا سامنا رہا ہے۔ جون 2026 میں قومی اسمبلی کی آئی ٹی کمیٹی نے اس کی پیش رفت پر تشویش ظاہر کی اور اس کی حیثیت، مشکلات اور تکمیل کی مدت کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔ اب تعمیر شروع ہونے کے بعد اس سہولت کے سندھ کے لیے ٹیکنالوجی مرکز بننے اور پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو سہارا دینے کی توقع ہے۔

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم
رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی
کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے
سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم
وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔