مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

کراچی یونیورسٹی نے عملے کو سرکاری دستاویزات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے روک دیا

رجسٹرار کے دستخط شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق کوئی بھی جامعہ سے متعلق دستاویز مقررہ اختیار کی پیشگی منظوری کے بغیر شیئر نہیں کی جا سکتی، خلاف ورزی پر محکمانہ کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
کراچی یونیورسٹی نے عملے کو سرکاری دستاویزات سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے روک دیا

کراچی یونیورسٹی نے تمام تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ جامعہ سے متعلق کوئی بھی دستاویز یا معلومات مقررہ اختیار کی پیشگی منظوری کے بغیر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ یا فارورڈ نہ کریں۔ یہ پابندی رجسٹرار ڈاکٹر عمران احمد صدیقی کے دستخط شدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے عائد کی گئی ہے۔

پروپاکستانی اور ٹیک جوس دونوں نے نوٹیفکیشن کی اطلاع دی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انتظامیہ نے دیکھا کہ سرکاری خطوط اور آفس آرڈرز بغیر اجازت سوشل میڈیا گروپس میں گردش کر رہے ہیں، اور اس نے خاص طور پر ملازمین و افسران کی تبادلوں، تقرریوں، اضافی چارجز اور معطلیوں سے متعلق دستاویزات کا ذکر کیا ہے۔

یہ حکم تدریسی اور غیر تدریسی دونوں طرح کے عملے پر لاگو ہے۔ عملے کو اجازت کے بغیر کوئی سرکاری دستاویز یا معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ یا فارورڈ کرنے، اور نہ ہی کسی غیر متعلقہ شخص کے ساتھ ایسا مواد شیئر کرنے کی اجازت ہوگی، الا یہ کہ مقررہ اختیار نے پیشگی منظوری دے دی ہو۔

نوٹیفکیشن میں وارننگ دی گئی ہے کہ خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور قابلِ اطلاق قوانین کے تحت محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے، جن میں گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964 کا رول 18 بھی شامل ہے، جو سرکاری ملازمین کے محکمانہ کارروائی میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق عوام کے لیے جاری کی جانے والی معلومات صرف کراچی یونیورسٹی کے سرکاری سوشل میڈیا صفحات یا دیگر مجاز ذرائع کے ذریعے شیئر کی جائیں گی۔

ٹیک جوس نے الگ سے بتایا کہ یہ نوٹیفکیشن سندھ کی سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے اجلاس کے چند روز بعد سامنے آیا، جس کی صدارت سندھ کے چیف سیکرٹری نے کی۔ ٹیک جوس کے مطابق اس اجلاس میں ایک یونیورسٹی سربراہ نے رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ پر نظرثانی کی تجویز دی، جسے چیف سیکرٹری نے نہیں اٹھایا۔ کسی بھی ذرائع نے دونوں پیش رفتوں کے درمیان تعلق کی اطلاع نہیں دی، اور جامعہ کی جانب سے بھی اس سلسلے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

دونوں رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نوٹیفکیشن کب نافذ العمل ہوگا، ’محکمانہ کارروائی‘ کے علاوہ کون سی مخصوص سزا تجویز کی گئی ہے، یا جامعہ نے نوٹس کے متن کے علاوہ کوئی بیان جاری کیا ہے یا نہیں۔ ملازمین کی تنظیموں یا اساتذہ کی جانب سے ردعمل کی بھی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

کراچی یونیورسٹی صوبائی دارالحکومت کا سرکاری تعلیمی ادارہ ہے اور سندھ کی بڑی سرکاری یونیورسٹیوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے عملے کی اندرونی اور عوامی رابطہ کاری پر عائد یہ پابندی بڑی تعداد میں ملازمین پر لاگو ہوگی۔

دونوں ذرائع نے نوٹیفکیشن کا بنیادی متن ایک جیسا پیش کیا، جس میں رول 18 کا حوالہ اور غیر متعلقہ افراد کے ساتھ دستاویزات شیئر کرنے کی ممانعت شامل ہے، تاہم کسی نے رجسٹرار یا وائس چانسلر کے دفتر کا کوئی تبصرہ شائع نہیں کیا۔

سیاستسندھ

سندھ ہائی کورٹ: وکلاء کو سات دن میں گاڑیوں سے سرکاری نشانات ہٹانے کا حکم

رجسٹرار کے مطابق نجی گاڑیوں پر سبز نمبر پلیٹیں، نیلی روشنیاں اور جعلی سرکاری پلیٹیں رکھنے والوں کو ہائی کورٹ، سٹی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سیاستسندھ

اقرارالحسن کو سائبر کرائم مقدمے میں ضمانت مل گئی

کراچی کی عدالت نے دو لاکھ روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا، این سی سی آئی اے نے ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر پوسٹوں کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

معیشتسندھ

عالمی بینک نے سندھ میں جائیداد ٹیکس اور بلدیاتی خدمات کے لیے 15 کروڑ ڈالر منظور کیے

سندھ پراپرٹی ریونیوز اینہانسمنٹ پروگرام صوبائی حکومت کو شہری جائیداد ٹیکس کی وصولی بہتر بنانے اور منتخب مقامی کونسلوں کی خدمات کی صلاحیت مضبوط کرنے میں مدد دے گا، خصوصاً کراچی میں۔

سیاستسندھ

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے جائزے اور بجٹ آڈٹ کے لیے کمیٹی قائم

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی یونین کونسلوں سے ضلعی کونسلوں تک غیر قانونی بھرتیوں اور بجٹ کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرے گی۔