کے پی ریونیو اتھارٹی کی مردان کے نجی ہسپتالوں میں کارروائی، مالی ریکارڈ طلب
انفورسمنٹ ٹیم نے متعدد رجسٹرڈ نجی ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر سینٹرز کا دورہ کیا لیکن اے پی پی نے اداروں کے نام یا ڈیڈ لائن نہیں بتائی۔

خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کے پی آر اے) کے مردان اور مالاکنڈ ریجن کے انفورسمنٹ ٹیم نے ضلع مردان کے متعدد رجسٹرڈ نجی ہسپتالوں اور ہیلتھ کیئر سینٹرز کا دورہ کیا اور انہیں مالی اعداد و شمار جمع کرانے کی ہدایت کی۔ یہ اطلاع سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے جمعرات کو دی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیم نے یہ دورے اتھارٹی کے انفورسمنٹ اقدامات کے تحت کیے، تاہم رپورٹ میں ان اداروں کے نام یا دورہ کیے گئے مراکز کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ ریکارڈ جمع کرانے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن بھی رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔
کے پی آر اے صوبے میں خدمات پر سیلز ٹیکس کی وصولی کی ذمہ دار ہے۔ رجسٹرڈ نجی ہسپتال اور ہیلتھ کیئر سینٹرز مالی دستاویزات برقرار رکھنے اور مطالبے پر انفورسمنٹ عملے کو فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
اے پی پی کی رپورٹ میں ہسپتال انتظامیہ یا کے پی آر اے حکام کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے مخصوص دستاویزات طلب کیے گئے یا یہ دورے کسی خاص تعمیلی مسئلے کی وجہ سے کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ٹیم نے اداروں سے مالی اعداد و شمار جمع کرانے کو کہا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ تعمیل نہ کرنے پر کیا کارروائی ہو سکتی ہے۔ کے پی آر اے نے مردان کے دوروں کے بارے میں الگ سے کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
صوبائی ریونیو اتھارٹی کی جانب سے ایسے فیلڈ دورے وقفے وقفے سے کیے جاتے ہیں تاکہ رجسٹرڈ کاروبار صوبائی ٹیکس قوانین کے تحت سیلز ٹیکس کٹوتی اور جمع کرانے کے پابند ہوں۔ صحت کا شعبہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں ٹیکس حکام نے خدمات فراہم کرنے والوں سے مزید مکمل مالی ریکارڈ طلب کیے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے نے یہ رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر شائع کی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مالی معلومات آن لائن جمع کرائی جائیں گی یا دستی طور پر۔ ضلع مردان میں رجسٹرڈ ہسپتالوں کی تعداد یا دورہ کیے گئے اداروں کی تعداد فراہم نہیں کی گئی۔
اخبار مزید تفصیلات ملنے پر اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
وزیراعظم: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناگزیر حالات کی وجہ سے لگایا گیا
اردو پوائنٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ فیصلہ دیر سے ہوتا تو مزید نقصان ہوتا، اور مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا گیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع
وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی 48 گھنٹے کی گفتگو کا ڈرافٹ تیار ہوا مگر صوبائی منظوری نہ آئی، اور 800 ارب روپے کے این ایف سی فنڈز پر سوال اٹھایا۔

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے تین ماہ میں 1,465 غیر قانونی میڈیکل سینٹرز سیل کر دیے
کمیشن کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 6,673 طبی مراکز کا معائنہ کیا گیا اور 2,668 مراکز کو مختلف خلاف ورزیوں پر وضاحت طلب نوٹس جاری کیے گئے۔